ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اوپیک کا بڑا فیصلہ، تیل کی پیداوار پھر بڑھانے کا اعلان

اوپیک کا بڑا فیصلہ، تیل کی پیداوار پھر بڑھانے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس نے اگست 2026 سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں سپلائی مزید بڑھے گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تیل کی برآمدات بتدریج بحال ہونے سے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

اوپیک پلس کی جانب سے آن لائن اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ جون اور جولائی کی طرح اگست میں بھی پیداوار کے ہدف میں اضافہ کیا جائے گا۔ اپریل سے جولائی تک اتحاد کے سات مرکزی رکن ممالک مجموعی طور پر تقریباً آٹھ لاکھ بیرل یومیہ اضافے کی منظوری دے چکے ہیں۔

اگرچہ پیداوار بڑھانے کے فیصلے کیے گئے، تاہم ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت متاثر رہی، جس سے سعودی عرب، عراق اور کویت سمیت اہم برآمد کنندگان کی سپلائی محدود ہو گئی تھی۔

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں اتحاد کی مجموعی پیداوار کم ہو کر 3 کروڑ 31 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی، جو فروری میں 4 کروڑ 27 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ جون کے دوران برآمدات میں کچھ بہتری آئی، تاہم پیداوار اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح تک نہیں پہنچ سکی۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر آ گئی ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات چین کی جانب سے درآمدات میں کمی، مشرق وسطیٰ سے باہر کے ممالک کی برآمدات میں اضافہ اور عالمی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل کی فراہمی قرار دی جا رہی ہیں۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنوو کے مطابق اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں اضافے کا فیصلہ توقعات کے مطابق ہے، تاہم آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ کی توجہ اس بات پر رہے گی کہ آبنائے ہرمز سے کتنے آئل ٹینکرز بحفاظت گزر پاتے ہیں اور چین میں تیل کی طلب کس رفتار سے بحال ہوتی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمتی پیش رفت نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں عالمی تیل کی سپلائی معمول پر آ جائے گی۔

دوسری جانب اوپیک پلس کو اندرونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات اتحاد سے الگ ہو چکا ہے جبکہ عراق نے اپنے پیداواری کوٹے میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اوپیک پلس کے سات مرکزی ممالک، جن میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان شامل ہیں، 2023 میں طے پانے والے یومیہ 16 لاکھ 50 ہزار بیرل کی رضاکارانہ کٹوتی کو مرحلہ وار ختم کرتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے تخمینے کے مطابق اگست سے ان ممالک کے پاس اب بھی تقریباً 3 لاکھ 79 ہزار بیرل یومیہ اضافی پیداوار مارکیٹ میں لانے کی گنجائش باقی رہے گی۔