ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جعلی کینیڈین ویزے پر سفر کی کوشش ناکام، مسافر اور ایجنٹ گرفتار

جعلی کینیڈین ویزے پر سفر کی کوشش ناکام، مسافر اور ایجنٹ گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سعید احمد :علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جعلی دستاویزات کے ذریعے کینیڈا جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، جہاں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے مسافر اور اس کے مبینہ ایجنٹ کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان میں عمر جمیل اور مبینہ ایجنٹ عتیق شامل ہیں۔ عمر جمیل فلائٹ نمبر کیو آر 621 کے ذریعے کینیڈا روانہ ہونے والا تھا، تاہم امیگریشن کلیئرنس کے دوران اس کی دستاویزات مشکوک معلوم ہونے پر اسے روک لیا گیا۔

ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ ملزم کے پاکستانی پاسپورٹ پر لگا کینیڈا کا وزٹ ویزا جعلی ہے۔ دورانِ تفتیش عمر جمیل نے انکشاف کیا کہ اس نے یہ جعلی وزٹ ویزا عتیق نامی ایجنٹ سے 65 لاکھ روپے کے عوض حاصل کیا تھا۔

ایف آئی اے نے مسافر کی نشاندہی پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ایجنٹ عتیق کو بھی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔ دونوں ملزمان کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جعلی سفری دستاویزات، ویزا فراڈ اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت یا سفر کے لیے صرف قانونی ذرائع اور مستند ویزا ایجنٹس سے ہی رجوع کریں۔

دوسری جانب آج ڈنکی کے ذریعے غیر قانونی طور پر اٹلی جانے کی کوشش کرنے والے دو پاکستانی شہری تیونس سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے، جہاں لاہور ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے انہیں تحویل میں لے لیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان محمد انس اور محمد ارسلان ایمرجنسی پاسپورٹ پر لاہور ایئرپورٹ پہنچے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ دونوں کچھ عرصہ سعودی عرب میں مقیم رہے، جہاں سے انہوں نے یورپ جانے کے لیے غیر قانونی راستہ اختیار کیا۔

ایف آئی اے کے مطابق دونوں ملزمان نے بعد ازاں لیبیا کے راستے کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر اٹلی پہنچنے کی کوشش کی، تاہم دورانِ سفر تیونس کی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے  مطابق  قانونی کارروائی کے بعد تیونس حکام نے دونوں پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے واپس پاکستان بھجوا دیا۔

ایف آئی اے نے ملزمان کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور منتقل کر دیا ہے، جہاں ان سے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں سے متعلق بھی تحقیقات کی جائیں گی۔