ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انجینیئر محمد علی مرزا کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا

Mohammad Ali Mirza, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: متنازعہ مذہبی سکالر انجینیئر محمد علی مرزا کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

دو روز پہلے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کی تھی۔ انجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف جہلم میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہے۔

انجینیئر محمد علی مرزا  مقدمہ درج ہونے کے روز سے ہی گرفتار تھے اور انہیں اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا۔ محمد علی مرزانے توہین مذہب کے مقدمے میں ضمانت کیلئے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ سے رجوع کیا تھا۔ 

3 دسمبر کو بدھ کے روز انجینیئر محمد علی مرزا کی درخواست پر سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی، درخواست ضمانت پر انجینیئر محمد علی مرزا کے وکیل طاہر ایوبی نے دلائل دیئے۔ کئی مذاہب اور فرقوں کے ہنماؤں نے مل کر محمد علی مرزا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا، اسی دوران اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی محمد علی مرزا کی بعض باتوں کو گستاخی قرار دے دیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نےفریقین کے  دلائل سننے کے بعد انجینیئر محمد علی مرزا کی درخواست ضمانت منظور کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے انجینیئر محمد علی مرزا کو 5،5 لاکھ روپے کے2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

ضمانت منظور ہونے اور ضمانتی مچلکے جمع ہونے کے بعد انجینیئر محمد علی مرزا کو آج اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔