سٹی42: مقبول سِنگر دِلجیت دوسانجھ غمگین ہو گئے تو پرستاروں میں بھی دکھ کی لہر دوڑ گئی، ہر کوئی پریشان ہو گیا کہ دوسانجھ کو کیا ہو گیا۔
ہوا یوں کہ دلجیت دوسانجھ نے انسٹاگرام ویڈیو پوسٹ کی، اس میں انہوں نے عمومی سچائی بیان کی، ’’لوگ زندہ رہتے فنکار کو وہ محبت نہیں دیتے، جس کا وہ حقدار ہوتے ہیں۔ وہ محبت اسے تب ملتی ہے جب وہ اس دنیا کو چھوڑ دیتا ہے۔ زندہ فنکار کی کوئی قدر نہیں کرتا ہے۔ مرنے کے بعد ہی فنکار کے کام کی تعریف کی جاتی ہے۔‘‘
پرستاروں نے اپنے فیوریٹ آرٹسٹ کے اس دکھی اظہار کو سیریسلی لیا اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ دلجیت دوسانجھ کو کیا ہو گیا۔
اس دیڈیو کلپ مین دوسانجھ کو یہ بھی کہتے دیکھا گیا، ’میں پہلے ہی دنیا کو چھوڑ چکا ہوں، مجھے کسی کی پروا نہیں‘۔
دلجیت دوسانجھ نے انسٹاگرام پر جو ویڈیو شیئر کی، اس میں وہ فلم ’چمکیلا‘ کی شوٹنگ کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک فنکار کو اپنی زندگی میں کئی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی فلموں میں اداکاری ہو یا گلوکاری، دوسانجھ کو کامیابی کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے تنازعات بھی تحفے میں ملے ہیں۔ لیکن ان تنازعات سے وہ اب فکرمند نہیں رہتے۔
اب یہ ہوا ہے کہ انھوں نے ’نیٹ فلکس‘ پر ایک ویڈیو ریلیز کی، جس میں وہ فنکار کی زندگی میں پیش آنے والی جدوجہد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اور اپنے آفیشیل ’انسٹاگرام‘ ہینڈل پر بھی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ فلم ’چمکیلا‘ کی شوٹنگ کا ذکر کر رہے ہیں۔ نیٹ فلیکس والی ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ایک فنکار کو اپنی زندگی میں کئی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب تک وہ مر نہیں جاتا، یا چمکیلا کی طرح مار نہیں دیا جاتا، تب تک لوگ اسے عظیم نہیں کہتے، نہ ہی اسے پیار دیتے ہیں۔
دوسانجھ کہتے ہیں کہ ’’لوگ زندہ رہتے فنکار کو وہ محبت نہیں دیتے، جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔ وہ محبت اسے تب ملتی ہے جب وہ اس دنیا کو چھوڑ دیتا ہے۔ زندہ فنکار کی کوئی قدر نہیں کرتا ہے۔ مرنے کے بعد ہی فنکار کے کام کی تعریف کی جاتی ہے۔‘‘
دلجیت کہتے ہیں کہ دنیا ایک فلم کی طرح ہی ہے، جب تک فنکار زندہ ہے، اسے جتنا ہو سکتا ہے اتنا پریشان کیا جاتا ہے۔ اسے موت کی دھمکیاں ملتی ہیں، سماج اس کے کام کو برداشت نہیں کر پاتا۔ پھر جب وہ مر جاتا ہے، تب کہتے ہیں کہ ’اُس نے کیا شاندار گانے گائے تھے‘۔
41 سالہ دلجیت دوسانجھ کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ دنیا کے اس پیٹرن کو سمجھ چکے ہیں اور اب وہ خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اسے (ان حالات کو) قبول کر لیا ہے۔ میں پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ چکا ہوں اور مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔ مجھے موسیقی اور فن سے محبت ہے۔ بس یہی میں کر رہا ہوں۔‘‘