ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ترقی سےمحروم وفاق کےگریڈ 19 اور 20کے افسران سےمتعلق اہم خبر

ترقی سےمحروم وفاق کےگریڈ 19 اور 20کے افسران سےمتعلق اہم خبر
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : ترقی سےمحروم وفاق کےگریڈ 19 اور 20کے افسران کی درخواستیں منظور، ہائیکورٹ نے سینٹرل سلیکشن بورڈ کا افسران کو ترقی نہ دینے کا فیصلہ کالعدم قراردیدیا۔ درخواست گزار افسران کے کیس کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔

 جسٹس مزمل اختر شبیر نے احمد عزیز تارڑ، مدثر ریاض و دیگر افسران کی درخواستوں پر سماعت کی۔سقراط امان رانا ،احمد عزیز تارڑ، مدثر ریاض ملک ،عثمان علی خان نےعدالت سےرجوع کیا۔ ڈاکٹر عثمان علی خان ، لیلیٰ غفور ، جمیل بھٹی سمیت دیگر افسران شامل ہیں ۔وفاقی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل میر ہارون رشید پیش ہوئے۔درخواست گزاروں کی جانب سے حافظ طارق نسیم ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔۔ وکیل درخواست گزارحافظ طارق نسیم نے مؤقف اپنایا کہ وزیر اعظم نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارش پر درخواست گزاروں کو ترقی نہیں دی ۔ وزیر اعظم کا درخواست گزاروں کوترقی نہ دینے کا فیصلہ قانون کیخلاف ہے۔ درخواست گزاروں کاسروس ریکارڈ بہترین ہے، ان کیخلاف کوئی محکمانہ سزا نہیں ۔کچھ افسران آج بھی ان عہدوں پر کام کررہے ہیں ، جن کیلئے ترقی نہیں دی گئی۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل میر ہارون الرشید کے درخواستوں کی مخالفت میں دلائل دیئے۔۔ مؤقف اختیار کیا کہ ترقی بطور حق نہیں مانگی جاسکتی ، یہ حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے۔سروس رولز کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا ، جس کے تحت ترقی دی جاتی ہے.اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے قانون کی مختلف شقوں و عدالتی فیصلوں کے بارے دلائل دیئے۔جسٹس مزمل اختر شبیر نے استفسار کیا کہ "کیا بورڈ کو ترقی کیلئے نظر ثانی کے اختیارات ہیں  ؟،عدالت نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کو افسران کے کیسز کا دوبارہ میرٹ پر جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا ۔

Ansa Awais

Content Writer