ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور فتح کرنے کا نعرہ لگا کر پشاور بھی گنوا بیٹھے

City42, PTI Protest, PEshawar protest, Ali Amin Gandapur
کیپشن: پشاور میں علی امین گنداپور کی نکلوائی ہوئی ریلی میں شرکا کی تعداد بہت کم تھی۔ علی امین کے تقریر کئے بغیر چلے جانے پر کارکنوں نے تنقید کی اور ایک سڑک کچھ دیر کیلئے بلاک کر دی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بانی کو عدالتوں کی کارروائی اور سزاؤں سے بچانے کے لئے وفاقی دارالھکومت پر حملے کرنے والے پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ علی امین اپنی پارٹی کے "سٹرانگ ہولڈ" مین اس قدر لاچار ہو گئے کہ کئی ہفتوں کی تیاری کے بعد آج ملک گیر احتجاج کے سلسلہ میں پشاور میں ریلی نکالی تو اس مین بندے نہین آئے، وزیراعلیٰ علی امین اپنی ریلی میں تقریر کئے بغیر ہی گھر چلے گئے۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے آج پانچ اگست کو کئی ہفتوں کی تیاری ےک ساتھ جو ریلی نکالی اس ریلی کے  قلعہ بالا حصار  پہنچنے پر علی امین کو کارکنوں سے خطاب کرنا تھا لیکن وہ کارکنوں سے خطاب کیے بغیر ہی نکل گئے۔ 

عینی شاہین نے بتایا کہ اس ریلی مین شریک کارکنوں اور حامیوں کی تعداد توقع سے بہت کم تھی۔
 وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور  اپنی ہی آرگنائز کی ہوئی  ریلی سے خطاب کیے بغیر ہی چلے گئے۔

پشاور میں عمران خان کی رہائی کیلئے  پانچ اگست کے احتجاج کے سلسلہ مین دن بھر کوئی سرگرمی نہین کی گئی۔ ایک مختصر ریلی  شام کو  حیات آباد ٹول پلازہ سے شروع ہوئی تھی  جس کی قیادت علی امین گنڈاپور نے کی۔  گنڈاپور نے قلعہ بالا حصار پر کارکنوں سے خطاب کرنا تھا لیکن وہ کارکنوں سے خطاب کیے بغیر ہی نکل گئے۔

 
وزیراعلیٰ کے خطاب کے بغیر چلے جانے پر  ریلی میں آنے والے کارکنوں نے  ان کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کارکنوں نے خیبرروڈ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا۔

ریلی میں موجود  کارکنوں کا کہنا تھاکہ ہم ریلی میں ساتھ آئے ہیں۔  یہاں قلعہ بالا حصار پر علی امین نے تقریر کرنا تھی۔ لیکن وہ  یہاں سے تقریر کیے بغیر بھاگم بھاگ نکل گئے۔ بعض لوگوں نے نیوز چینلز کے کیمروں کے سامنے کہا،  عمران خان کو چاہیے کہ پارٹی میں صفائی کریں اور ایماندار لوگوں کو رکھا جائے۔ 

ریلی میں خواتین کی تعداد انتہائی کم تھی۔ ریلی مین آنے والی  ایک خاتون کارکن نے کہا اکہ ہم وزیراعلیٰ کے خطاب کا انتظار کر رہے تھے لیکن وہ چلے گئے، اگر آپ کے پی کو نہیں سنبھال سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ علی امین نے  تقریباً تین ہفتے پہلے اپنے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ رائے ونڈ روڈ لاہور  کے ایک فارم ہاؤس میں اجلاس کر کے پانچ اگست کے احتجاج کے پروگرام کا ڈرامائی اعلان کیا تھا تو انہوں نے لاہور ہو فتح کرنے اور پھر یہاں سے پورے پاکستان کو فتح کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اپنی تقریر میں علی امین نے ریاست پر بہت سخت الفاظ مین الزام تراشی کی تھی، لاہور کے اس طوفانی دورہ کے دوران علی امین گنڈاپور نے میڈیا کے نماؤندوں کے سامنے نیوز کانفرنس کے نام سے بھی طویل تقریر کی تھی۔ ان کے تمام باتوں کا لب لباب یہ تھا کہ اپنے بانی کو جیل سے رہا کروانے کے لئے وہ پانچ اگست کو طوفان لانے والے ہیں۔

Caption خیبر پختونخوا  کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی چند ہفتے پہلے لاہور کے نواحی علاقہ رائے ونڈ روڈ پر تقریر کا ایک سکرین شوٹ۔ اس تقریر میں علی امین نے پانچ اگست کو لاہور فتح کرنے کا دعویٰ کیا تھا، آج بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پشاور بھی ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔

 آج جو دیکھنے میں آیا وہ یہ تھا کہ پنجاب بھر میں پی ٹی آئی کا کوئی احتجاج منظم نہیں ہو سکا، کچھ کارکن گرفتار ہوئے اور احتجاج کا کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے احتجاج کے پروگرام کو کل خود منسوخ کر دیا، اڈیالہ جیل کے سامنے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹروں کے احتجاج کی ہدایت دے کر پارٹی کے چئیرمین، رکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر خود اپنے گھر بونیر آ گئے۔ ارکان پارلیمنٹ پارلیمنٹ کی عمارت سے ہی باہر نہیں نکلے۔

علی امین جنہوں نے پانچ اگست کو لاہور فتح کرنا تھا وہ آج پشاور سے باہر ہی نہیں نکلے، انہوں نے شام کو جو ریلی نکلوائی اس میں خود تقریر نہیں کی اور ریلی کو ادھورا چھوڑ کر واپس چلے گئے۔