سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید ٹیرف لگانے کا اعلان کر ڈالا۔ پاکستان کی ایکسپورٹ اندسٹری کے لئے انڈیا کی مصنوعات پر امریکہ میں 25 فیصد ٹیرف لگنے کے بعد مزید ٹیرف لگنا انتہائی خوشی کی خبر ہو گا، اس اقدام سے پاکستان کی کئی پروڈکٹس امریکہ میں انڈین پروڈکٹس کی جگہ لینے کی پوزیشن میں آ جائیں گی۔
آج منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت اچھا تجارتی پارٹنر نہیں، وہ روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں، بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی سزا دینے کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا۔
صدر ن ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر اپنے دھماکہ خیز اعلان میں کہا کہ بھارت پر (ایک ہی دن پہلے نافذ کئے گئے) موجودہ 25 فیصد ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت امریکہ کا اچھا تجارتی پارٹنر نہیں، بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس طرح وہ (روس کو سرمایہ فراہم کر کے) یوکرین میں جنگی مشین کو ایندھن فراہم کررہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھارت کی معیشت کو مردہ قرار دیدیا
ٹرمپ نے کہا کہ بھارت ایسا کر رہا ہے اور میں اس سے خوش نہیں ہوں، انہوں نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ اصل مسئلہ یہ رہا ہے کہ اس کے ٹیرف بہت زیادہ رہے ہیں۔
یاد رہےکہ گزشتہ روز بھی صدر ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر عائد ٹیرف مزید بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت نہ صرف بڑی مقدار میں روسی تیل خرید رہا ہے بلکہ اسے فروخت کرکے منافع بھی کما رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت کو کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی فوج کے ہاتھوں کتنے لوگ مارے جارہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے اب بھارت پر ٹیرف میں اور بھی اضافہ کرنے جارہا ہوں۔
اس سے قبل ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائےگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ معیشت دے دیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انڈیا کی معیشت اور حکومت کے متعلق خیالات صرف انڈیا روس تجارتی رشتوں کی وجہ سے نہیں، وہ انڈیا کو امریکہ کے لئے بے کار تصور کرتے ہیں۔ اکتیس جولائی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اندیا کی معیشت کو مایوس کن اکانومی قرار دے چکے ہیں۔
سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ پر صدر ٹرمپ نے کہاکہ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ بھارت روس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ (بھارت اور روس) اپنی مردہ معیشت کو ایک ساتھ نیچے لے جاسکتے ہیں اور مجھے اس کی فکر ہے۔
صدر ٹرمپ نے لکھا، ہم نے بھارت کے ساتھ بہت تھوڑا سا کاروبار کیا ہے مگر ان کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس وقت تک صدر ٹرمپ نے اندیا پر 25 فیصد ٹریف نافذ نہیں کیا تھا۔ اس کے لئے انہوں نے پہلے یکم اگست کی تاریخ دی تھی، پھر انڈیا کی مودی حکومت کو مزید موقع دیا لیکن کل انہوں نے انڈیا کی امریکہ جانے والی مصنوعات پر 25 فیصد ٹریف نافذ کر دیا، ٹرمپ یہیں نہیں رکے بلکہ آج اس ٹیرف میں چوبیس گھنتے کے اندر مزید اضافہ بھی کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکہ کا سٹریٹیجک اتحادی ہونے کے زعم میں مبتلا نریندر مودی کی حکومت کے ساتھ صدر ٹرمپ کا رویہ اور اقدامات تشویش ناک ہیں۔ وہ انڈیا کو رگیدنے کے ساتھ پاکستان کو نوازنے میں میں بھی آگے برھ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ مکمل ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکا پاکستان کے تیل ذخائر بڑھانے کے لیے اقدام کرے گا۔