سٹی42: چیئر مین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے ان کی گرفتاری کے عمل میں ایک قانونی سقم کی موجودگی کا الزام لگا دیا ہے۔
وکیل شعیب شاہین نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو عدالت کے فیصلے سےقبل ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق شعیب شاہین نےعمران خان کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ خواجہ حارث کے منشی کو صبح نامعلوم افراد نے ہائیکورٹ سے اٹھا لیا،منشی سے کہاگیا کہ آج کوئی فائل عدالت میں جمع نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا منشی بھیجا تو اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا جبکہ فیصلے پرد ستخط سے قبل ہی اسلام آباد پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کر لیا ، چئیرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ زبانی حکم پر کبھی گرفتاری نہیں ہوتی۔
چیئر مین پی ٹی آئی کے وکیل کا کہناتھا کہ ہمیں آئین کے مطابق فیئر ٹرئل کا حق ملنا چاہیے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران ہمیں کہا گیا کہ ایک گھنٹے میں گواہ پیش کریں،گواہ لانے کیلئے وقت مانگا تو انکار کردیا گیا، ہمارے گواہ پیش ہی نہیں کئے جاتے تو کیسے کہہ سکتے ہیںکہ ہم نے شواہد نہیں دیئے۔
خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو توشہ خانہ کیس میں تین سال سزا ہونے کے بعد ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کر لیا گیاہے۔عدالت کا فیصلہ میڈیا سے نشر ہونے کے کچھ دیر بعد لاہور میں پہلے عمران خان کی رہائش گاہ پر پولیس کی بھاری نفری پہنچنے کی اطلاعات نشر ہوئیں اس کے فوراً بعد ان کی گرفتاری کی بریکنگ نیوز آ گئی۔ اب چئیرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو عدالت کے جج کی جانب سے فیصلہ پر دستخط کئے جانے سے پہلے گرفتار کیا گیا۔ تاہم اپنی پریس کانفرنس میں چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کئے جن سے ان کا الزام ثابت ہو سکے۔ شواہد کی عدم موجودگی مین ژرف نیوز چینلز سے نشر ہونے والی خبروں کی کرونولوجی ہی اس دعوے کو جانچنے کا قابل رسائی زریعہ ہے اور یہ کرونولوجی چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل کے دعوے کی تصدیق نہیں کر رہی۔۔