ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  ماں مریم کی حکومت کے نیچے ایک اور غریب بچی کا گینگ ریپ 

City42, Rape Case, Violence against women, gender based violence, Crimes against women, Gang rape case,
کیپشن: ریپ کا نشانہ عموماً معمولی سماجی حیثیت کی عورتیں اور بچیاں بنتی ہیں، ایسے مقدمات سامنے کم آتے ہین اور جو کیس تھانے تک پہنچ جائین، ان میں پولیس کے اہلکار مجرموں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ بہت کم مقدمات منطقی انجام تک پہنچ پاتے ہیں کیونکہ نہ ختم ہونے والا دباؤ ریپ کے جرم کو تھانے تک لے جانے والے مظلوموں کا ہمیشہ پیچھا کرتا ہے اور پولیس ہمیشہ ریپسٹ کی ہی طرف دار ہوتی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: فیصل آباد میں سڑک پر  گینگ ریپ کا ایک کیس سامنے آنے کے دو ہی دن بعد گینگ ریپ کا ایک اور سنگین کیس سامنے آ گیا۔  اس کیس میں 8  مرد ملوث ہیں جنہوں نے بچی کو کئی روز تک ریپ کیا۔
 
فیصل آباد  سے پولیس کے ذریعہ سامنے آنے والی اس  خبر کی ابتدائی تفصیل یہ ہے کہ  8 افراد نے  15 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ 5 دن تک مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کی۔

 فیصل آباد پولیس نے بتایا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ  کے ملک پورہ محلہ میں 8  مردوں نے 15 سالہ ملازمہ بچی کو پانچ دن تک اجتماعی ریپ کیا۔ 

متاثرہ بچی  کی والدہ نے پولیس کو خود اس سنگین جرم کی شکایت کی۔ پولیس نے فیہ الحال  پی پی سی کی دفعہ 375-A کے تحت ایف آئی آر  درج  کی ہے۔

اس ایف آئی آر میں مظلوم بچی کی والدہ نے بتایا  کہ اس نے اپنی بیٹی کو 28 فروری کو نواب کالونی میں ملازمہ کے طور پر ایک خاتون کے حوالے کیا تھا۔

اس خاتون نے اس کی بیٹی کو کچھ دوسرے لوگوں کے حوالے کردیا جنہوں نے 3 سے 8 مارچ تک اس کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی۔

پولیس نے اس ایف آئی آر کے بعد اب تک ایک بھی درندے کو گرفتار نہیں کیا۔ 

قیاس کیا جا رہا ہے کہ پولیس کے بعض اہلکار ملزموں سے کچھ رشوت لے کر انہیں مظلوم بچی کی وارث والدہ پر دباؤ ڈال کر انہیں خاموش کرنے کے لئے موقع فراہم کر رہے ہیں۔