ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بپھرتے پانی سے انسانی زندگیوں، املاک، کھیت کھلیان اور جانوروں کو بچانا ایک بڑا چیلنج ؛ خاتون اول آصفہ بھٹو

بپھرتے پانی سے انسانی زندگیوں، املاک، کھیت کھلیان اور جانوروں کو بچانا ایک بڑا چیلنج ؛ خاتون اول آصفہ بھٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری  نے مڈبنگلو اور مڈمنگلی کے مقام پر ایس ایم بند کے مختلف مقامات کا دورہ کیا

رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے ایس ایم بند کے مختلف مقامات پر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا،آصفہ بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کی وزیر برائے امور صحت عذرا فضل پیچوہو اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کے ہمراہ آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو 1122 کے امدادی کیمپوں کا دورہ کیا،آصفہ بھٹو زرداری نے محراب پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے پیشگی اقدامات کے طور پر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آصفہ بھٹو کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے سندھ سے منسلک ایس ایم بند پر مڈ منگلی وہ مقام ہے کہ جہاں ممکنہ سیلاب سے نقصانات کا خدشہ ہے،محکمہ آبپاشی نے مڈ منگلی کے مقام پر دریا کے بہاؤ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ٹی اسپر، جے اسپر اور ڈھلوانی اسٹڈ کے مختلف ڈھانچے تعمیر کئے ہیں، ایس ایم بند پر مڈمنگلی کے پاس بھاری مشینری کے ساتھ ساتھ پتھروں کا وافر ذخیرہ بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ شگاف کو فوراً پر کیا جا سکے،محکمہ آبپاشی کے اہلکار 24 گھنٹے ایس ایم بند پر گشت کرتے ہیں تاکہ بند کی حالت اور سیلابی صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا سکے، ریسکیو 1122 کے کیمپ کے عملے کے پاس بوٹ، لائف جیکٹ، اسکوبا سیٹ اور رسیوں تک ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا تمام سامان موجود ہے، مڈ بنگلو کے مقام پر میڈیکل کیمپ پر یومیہ 80 مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے،گڈو اور سکھر بیراج پر دولاکھ کیوسک تک نارمل، پانچ لاکھ کیوسک تک درمیانہ سیلاب جبکہ سپرفلڈ نو لاکھ کیوسک تک قرار پاتا ہے،کوٹری بیراج پر دولاکھ کیوسک تک نارمل، ساڑھے چارلاکھ کیوسک تک درمیانہ سیلاب جبکہ سپر فلڈ آٹھ لاکھ کیوسک سے زیادہ قرار پاتا ہے،2010 کے سپرفلڈ کے بعد ایس ایم بند کو مختلف مقامات پر مضبوط کیا گیا ہے،

خاتون اول آصفہ زرداری نے کہا بپھرتے پانی سے انسانی زندگیوں، املاک، کھیت کھلیان اور جانوروں کو بچانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے نوابشاہ کی تحصیل سکرنڈ،اور قاضی احمد کے قریب دریائے سندھ کے حفاظتی بندوں کا جائزہ لیا،آصفہ بھٹوزرداری نے سندھ حکومت کی جانب سے قائم ریلیف و میڈیکل کیمپس کا بھی دورہ کیا،آصفہ بھٹوزرداری نے مڈ منگلی بند، آمری اور ایس ایم بچاؤ بند کا جائزہ لیا،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ ،ڈی سی شہید بینظرآباد اور ایریگیشن افسران نے آصفہ بھٹو زرداری کو سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی،آصفہ بھٹوزرداری نے کیمپس میں موجود لوگوں سے بھی ملاقات کی اور سہولیات کے حوالے سے معلومات لیں

آصفہ بھٹوزرداری کے ہمراہ وزیر صحت ڈاکٹر عذرہ فضل پیچوہو، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ اور ضلعی قیادت موجود تھی،آصفہ بھٹوزرداری کے دورے کے دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جبکے میڈیا کوریج پر مکمل پابندی تھی