ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مارخور کے شکار کا پرمٹ تاریخی 10 کروڑ روپے میں نیلام، گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم

مارخور کے شکار کا پرمٹ تاریخی 10 کروڑ روپے میں نیلام، گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک : گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی ترقی کے لیے جاری ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت پاکستان کے قومی جانور مارخور کے شکار کا پرمٹ تاریخی 10 کروڑ روپے (370,000 امریکی ڈالر) میں نیلام کر دیا گیا,یہ پرمٹ استور مارخور کے شکار کے لیے نانگا پربت کنزروینسی ایریا میں جاری کیا گیا، جو اب تک کا سب سے مہنگا پرمٹ تصور کیا جا رہا ہے۔

نیلامی کی یہ تقریب فاریسٹ، پارکس اینڈ وائلڈ لائف کمپلیکس گلگت میں منعقد ہوئی، جس میں ملکی و غیر ملکی شکاریوں، ماہرینِ جنگلی حیات اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ تقریب میں نہ صرف مارخور بلکہ دیگر نایاب جنگلی جانوروں جیسے ہمالیائی آئی بیکس اور بلیو شیپ کے شکار کے پرمٹس بھی نیلام کیے گئے۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق شکار سیزن 2025-26 کے لیے کل 118 پرمٹس جاری کیے گئے  جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:4 پرمٹس: استور مارخور,100 پرمٹس: ہمالیائی آئی بیکس,14 پرمٹس: بلیو شیپ
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد حصہ براہِ راست مقامی کمیونٹیز کو منتقل کیا جاتا ہے، تاکہ اسے جنگلی حیات کے تحفظ، سیاحتی منصوبوں اور مقامی ترقیاتی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارخور کے شکار کا پرمٹ اتنی بڑی رقم میں نیلام ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ گلگت بلتستان کی جنگلی حیات عالمی سطح پر کتنی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرتا ہے بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

دوسری جانب، کچھ ماحولیاتی حلقوں کی جانب سے قومی جانور کے شکار پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نایاب اور قومی علامت سمجھے جانے والے جانور کو شکار کے لیے پیش کرنا ایک متنازع عمل ہے، جسے شفاف اور مؤثر نگرانی کے بغیر جاری رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

اس سب کے باوجود، ٹرافی ہنٹنگ کو ایک ایسا ماڈل قرار دیا جا رہا ہے جو اگر درست طریقے سے چلایا جائے تو قدرتی وسائل کے تحفظ اور مقامی آبادی کی ترقی دونوں کا ضامن بن سکتا ہے۔