ماہ صیام میں بھی مصنوعی مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا

ماہ صیام میں بھی مصنوعی مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا

 شہربھرسے (راﺅ دلشاد/عثمان علیم) ماہ صیام میں بھی مصنوعی مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا، سرکار کا جاری کردہ مہنگائی آرڈیننس بھی بے سود، مہنگائی مافیا بے لگام ہوگیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود گراں فروشی و مہنگائی عروج پر ہے، سبزیاں اورپھل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگے، لیموں کی قیمت15 روپے کا اضافہ، ماڈل بازاروں میں 375 جبکہ عام مارکیٹ میں 550 روپے فی کلوتک میں فروخت جاری ہے۔سرکاری نرخوں میں اضافے سے ماڈل بازار میں بھی ریٹس عام آ دمی کی پہنچ سے باہر ہیں، ادرک چائنہ  300 روپے، لہسن چائنہ 300، مٹر95، بھنڈی 85، اروی 90، سبز مرچ اورمونگرے 80، ٹماٹر30 اور کریلے 25 روپے فی کلو میں فروخت ہوتے رہے۔

پھلوں میں سیب220، خربوزہ12 روپے اضافے کے بعد 80، انار 15 روپے اضافے کے بعد 305، آڑو 280 اورکیلا 150 روپے فی کلو میں فروخت ہوتا رہا۔مرغی 32 روپے اضافے کے بعد 255 روپے فی کلو میں عام مارکیٹ جبکہ ماڈل بازاروں میں211 روپے میں فروخت ہونے لگی، ماڈل بازاروں میں لگائے گئے سہولت سٹالز پر سبزیوں کی قیمتوں میں پانچ سے دس روپے جبکہ پھلوں میں دس سے 30 روپے فی کلورعایت دی جارہی ہے۔   

دوسری جانب یوٹیلیٹی سٹورز پر رمضان پیکج کے تحت اشیا ضروریہ کی قلت دور نہ ہو سکی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورزکےذریعےعوام کو ماہ رمضان میں ریلیف دینےکےدعوےصرف دعووں کی حد تک نظر آتے ہیں کیونکہ یوٹیلیٹی سٹورز پر نہ تو دالیں فراہم کی جا سکیں اور نہ ہی بیسن جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز پر فراہم کی جانیوالی کھجوریں بھی نجی کمپنی سےمہنگےداموں خریدکرمہنگے داموں ہی فروخت ہونےلگیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، موجودہ حکومت صرف اور صرف دعوے کررہی ہےجبکہ عملی طور پرقیمتوں کوکنٹرول کرنے کے لیےکوئی اقدامات نہیں کیےجا رہے۔  حکومت کم از کم ماہ رمضان میں عوام کو ریلف دینے کے لیےاپنےجاری کردہ سرکاری نرخنامےکےمطابق  سبزیوں اور پھلوں کی فروخت کو یقینی بنائے۔