ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب پراپرٹی انرشپ کیس،عدالت نےمعاملہ ٹربیونل کو بھجوا دیا

 پنجاب پراپرٹی انرشپ کیس،عدالت نےمعاملہ ٹربیونل کو بھجوا دیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب پراپرٹی اونرشپ قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے اہم آبزرویشن دیتے ہوئے معاملہ متعلقہ ٹربیونل کو بھجوا دیا اور قرار دیا کہ درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ٹربیونل ہی کرے گا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالت کے روبرو شہری شکیل الحسن اور حامد نواز کی جانب سے دائر دو درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل محمد امجد پرویز دیگر لاء افسران کے ہمراہ پیش ہوئے، جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ بشریٰ قمر سمیت دیگر وکلاء عدالت میں موجود تھے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خاتون وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے پراپرٹی اونرشپ کے قانون کو چیلنج کیا ہے؟ اس پر وکیل بشریٰ قمر نے جواب دیا کہ انہوں نے قانون کو نہیں بلکہ متعلقہ حکام کے غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان اقدامات کو عدالت پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے انہیں عدالت پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے، موجودہ درخواستوں میں ایکٹ کی آئینی حیثیت (وائرز) کو چیلنج نہیں کیا گیا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح کیا کہ اب اس ایکٹ سے متعلق معاملات ٹربیونل میں سنے جائیں گے اور ابتدائی طور پر ٹربیونل ہی یہ طے کرے گا کہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں۔
وکیل بشریٰ قمر نے کہا کہ ان کے مقدمات میں مذکورہ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواستوں کی استدعا میں کہیں بھی ایکٹ کی آئینی حیثیت کو چیلنج نہیں کیا گیا، لہٰذا فورم کا تعین قانون کے مطابق ہوگا۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جو کیسز پہلے سے سول کورٹس میں زیرِ سماعت ہیں وہ براہِ راست ٹربیونل کو منتقل نہیں ہوسکتے، تاہم اگر سول کورٹ میں متعلقہ درخواست دی جائے تو عدالت فریقین کو سن کر معاملہ ٹربیونل کو بھجوانے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار خاتون وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے معاملے میں ٹربیونل ہی فیصلہ کرے گا، تین رکنی بینچ نے درخواست گزار خاتون کا مؤقف سننے کے بعد درخواستیں نمٹا دیں اور معاملہ ٹربیونل کو بھجوا دیا۔

Ansa Awais

Content Writer