ویب ڈیسک: امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ کے کینیڈا ، میکسیکو اورچین پرٹیرف امریکی شہریوں کوبھاریں پڑیں گے۔
محصولات سے امریکی صارفین پر ہرسال اوسطاً1200 ڈالر کااضافی بوجھ پڑے گا،محصولات غیر ملکی حکومتوں کی طرف سے جوابی کارروائی کاباعث بنیں گے، ٹیرف اقتصادی ترقی میں کمی،برآمدی سیکٹر سکڑنے،سپلائی چین میں خلل کاباعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب چین کی ممکنہ امریکی ٹیرف کے جوابی اقدامات کےتیاریاں جاری ہیں، چین ٹیرف کی صورت میں امریکی زرعی برآمدات کونشانہ بناسکتا ہے،چینی میڈیا کے مطابق چین امریکی زرعی مصنو عا ت کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
سال2024میں چین نے29.52 ارب ڈالر کی امریکی زرعی مصنوعا ت درآمد کیں، امریکی صدر نے چین کو20 فیصد ٹیرف ک دھمکی دی تھی جس کاآغاز4مارچ آج سے ہوگا۔
خیا ل رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ سے امریکی سٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی نظرآرہی ہے۔
امریکی صدر نے آج کینیڈا ،میکسیکواورچین پر ٹیرف نافذ کرنے کااعلان کیا ہے، سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پرافراتفری میں حصص فروخت کردئیے، ڈاؤجونز انڈسٹریل انڈیکس 650 پوائنٹس گرکر43 ہزار 191پوائنٹس پرآگیا ۔
نیسڈیک ٹیکنالوجی انڈیکس 500 پوائنٹس کی مندی سے 18 ہزار 350 پربند ہوئی،ایس اینڈ پی انڈیکس150 پوائنٹس گرگیا،5ہزار 849 پربند ہوا امریک اسٹاک مارکیٹ میں دسمبر کے بعد سب سے بڑی مندی ریکارڈ کی گئی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App