(ویب ڈیسک) امریکن کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن الہان عمر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مینیسوٹا اور صومالی نژاد امریکی کمیونٹی پر حالیہ تنقید کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی تاریخ میں ’’اس سے زیادہ ڈھٹائی سے بدعنوان صدر کبھی نہیں آیا‘‘۔وہ مسلسل جھوٹ، نسل پرستی اور توجہ ہٹانے کی پرانی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق انگلش اخبار ’’دی گارجین‘‘میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں الہان عمر نے الزام لگایا کہ ٹرمپ اپنی سیاسی ناکامیوں اور بدعنوانیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے بار بار ان کو اور صومالی برادری کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’کوئی بھی سنجیدہ مبصر یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب بھی ٹرمپ کی اپنی ناکامیاں اور بدعنوانی نمایاں ہوتی ہیں تو وہ میرے اور صومالی کمیونٹی کے خلاف دشمنی کو ہوا دینے لگتے ہیں۔ وہ مسلسل جھوٹ، نسل پرستی اور توجہ ہٹانے کی پرانی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں‘‘۔واضح رہے کہ الہان عمر اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی نئی نہیں۔ 2019میں کانگریس میں منتخب ہونے کے بعد سے الہان عمر متعدد بار ٹرمپ کے حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں، جبکہ ٹرمپ کے ناقدین ان تبصروں کو نسل پرستانہ اور امتیازی قرار دیتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران ٹرمپ نے مینیسوٹا میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے صومالی نژاد افراد اور الہان عمر پر سخت تنقید کی تھی۔صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ بعض صومالی نژاد افراد ریاست میں مالیاتی فراڈ کے واقعات سے منسلک رہے ہیں۔الہان عمر نے جواب میں کہا ٹرمپ درحقیقت مالی بدعنوانی کے خلاف نہیں بلکہ سیاسی فائدے کیلئےاس موضوع کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کو دھوکہ دہی یا فراڈ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے بارہا بڑے مالی جرائم میں ملوث افراد کو معاف کیا یا ان کیلئے نرمی برتی ہے‘‘۔
امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹ رکن الہان عمر نے متعدد ایسے افراد کا حوالہ دیا جنہیں ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں معاف کیا تھا یا جن کی سزاؤں میں کمی کی گئی تھی، جن میں صحت کی دیکھ بھال، بینک فراڈ اور مالیاتی جرائم سے وابستہ شخصیات شامل تھیں۔ الہان عمر نے مینیسوٹا میں ’’فیڈنگ آور فیوچر‘‘ اسکینڈل کا بھی ذکر کیا، جس میں کورونا وبا کے دوران بچوں کے کھانے کے پروگرام کیلئےمختص رقوم میں مبینہ بدعنوانی سامنے آئی تھی اور اس اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ضروری تھی، تاہم اس واقعے کو پوری صومالی کمیونٹی کے خلاف استعمال کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم سب کو اس نقصان پر تشویش ہونی چاہیے جو ان مجرموں نے عوامی اعتماد کو پہنچایا، لیکن دھوکہ دہی کے خلاف یکساں کارروائی کے بجائے ٹرمپ اور انکے ساتھیوں نے اسے نسل پرستانہ اور سیاسی تماشے میں بدل دیا ہے‘‘۔الہان عمر نے مزید الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مینیسوٹا کے خلاف وفاقی میڈیکیڈ فنڈنگ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے ریاست کیلئے مختص 350 ملین ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں روک دی ہیں اور مزید اربوں ڈالر کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو ریاست کے تقریباً 12لاکھ افراد کی صحت کی سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں۔
انگلش اخبار ’’دی گارجین‘‘میں شائع ہونے والےمضمون کے اختتام پر الہان عمر نے کہا ’’ٹرمپ اور ریپبلکن قیادت بدعنوانی کے خلاف حقیقی جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ عوامی وسائل سے فائدہ اٹھانے، اپنی بدعنوانی سے توجہ ہٹانے اور اپنے سیاسی اتحادیوں کو نوازنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ امریکی عوام ایک ایسے صدر سے بہتر کے مستحق ہیں جو احتساب کے نام پر اپنے مخالفین کو نشانہ بناتا ہو‘‘۔