ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سکھ شناخت کے اظہار کے جرم میں یوٹیوبر جسبیر سنگھ گرفتار

سکھ شناخت کے اظہار کے جرم میں یوٹیوبر جسبیر سنگھ گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : انڈیا کی دس مئی کو پاکستان کے ہاتھوں کمر تڑوا لینے والی کینہ پرور حکومت اپنی ذلت بھری شکست کا انتقام اپنے ہی شہریوں سے لے کر اپنے حامیوں اور عام شہریوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ اب ایک سکھ  یوٹیوبر جسبیر سنگھ  کو گرفتار کرلیا گیا۔

ڈی جی پی پنجاب گوراو یادو نے یہ بے ہودہ الزام لگایا کہ یوٹیوبر جسبیر سنگھ کا تعلق پاکستانی نیٹ ورک سے تھا،بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ جسبیر سنگھ جوتی ملہوترا اور شاکر عرف جٹ نندوا کے ساتھ رابطے میں تھا۔

 بھارت کے مودی کی گودی میں بیتھ کو نام نہاد صحافی کے نام سے اپنے ہی ملک میں جھوٹ کی غلاظت پھیلانے والے میڈیا  نے "جاسوسی" کا الزام تھوپنے کے لئے  یہ بھونڈا  ثبوت بتایا کہ جسبیر سنگھ نے 2020، 2021 اور 2024 میں "پاکستان کے دورے "کی. ان کے فون سے "پاکستان سے جڑے  فون نمبرز "برآمد ہوئے ہیں۔

بھارتی میڈیا نے دعوے میں کہا کہ جان محل یوٹیوب چینل کے خالق جسبیر سنگھ پر خفیہ نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام ہے۔

جسبیر سنگھ کو گرفتار تو کر لیا لیکن اس پر الزام تھوپنے کے لئے کوئی معمولی نوعیت کا ثبوت بھی دستیاب نہیں ہوا۔ سکھ مذہب کے تمام مقدس مقامات پاکستان مین ہیں اور اپنے مقدس مقامات کی زیارت اور مذہبی اجتماعات مین شرکت کے لئے سکھ اسی طرح پاکستان آنا چاہتے ہین جیسے ہندو بنارس جاتے ہیں۔ کسی سکھ پر صرف پاکستان تین مرتبہ یاتراؤں کیلئے جانے کو لے کر جاسوسی کا الزام تھوپنا صرف خوفزدہ کرنے اور کچلنے کی وہی بدنام پالیسی ہے جس سے خود انڈیا میں بیشتر شہری بیزار ہیں، اسے ہندوتوا کہتے ہیں۔

ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ  نریندر مودی سرکار سوشل میڈیا پر سکھ شناخت کے اظہار کو جاسوسی سے جوڑنے کی بھونڈی سازش کر رہی ہے۔

 بھارتی حکومت نے سکھ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کارکنان کو نگرانی میں لے لیا، سوشل میڈیا پر سکھ شناخت کے اظہار پر اکاؤنٹس بند کیے جا رہے ہیں،’سکھ فار جسٹس‘ کے حامیوں پر UAPA جیسے سخت قوانین کا اطلاق ہورہا ہے۔

 خالصتان کا لفظ بولنے پر غداری کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، پنجاب میں عام سکھ شہریوں کو انٹیلیجنس واچ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔