راو دلشاد : صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا کہ :پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ایسوسی ایشنز کو گرانٹس دینے کا سلسلہ جاری ہے،ڈویژن، ضلع کے علاوہ پہلی بار تحصیل بارز کو گرانٹس دی جارہی ہیں.
پنجاب کی گیارہ تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو مجموعی طور پر پونے تین کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فی تحصیل بار کو 25لاکھ روپے گرانٹ دی گئی .صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کی دعوت پر وکلاء کمیونٹی لاہور آئی۔مقامی ایم پی ایز کی موجودگی میں بار صدور و جنرل سیکریٹریز کو چیکس دئیے گئے.
ایم پی اے چوہدری اختر علی کی موجودگی میں صدر بار کامونکی چوہدری محمد عرفان کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے چوہدری ضیا الرجمن کی موجودگی میں تحصیل بار جہانیاں کے صدر ذاکر حسین کو 25 کروڑ کی گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے عبدالقادر اعوان موجودگی میں گوجرہ بار کے صدر مرزا طارق حیسن کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے محمد فیاض کی موجودگی میں پسرور بار صدر غلام غوث کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا۔ ایم پی اے محمد یامین کی موجودگی میں کوٹلی ستیاں بار کے صدر حمید اظہر کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے جعفر علی ہوچھا کی موجودگی میں تانتیلانوالہ بار کے صدر سخاوت علی کو 25 لاکھ کا چیک دیا گیا.
ایم پی اے راؤ کاشف رحیم کی موجودگی میں سمندری بار کے صدر وقاض حمید کو 25 لاکھ گرانٹ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے خان بہادر کی موجودگی میں جڑانوالہ بار کے صدر کو 25 لاکھ کا چیک دیا گیا.ایم پی اے ناصر محمود کی موجودگی میں پنڈ دادن خان بار کے صدر کو 25 لاکھ* گرانٹ کا چیک دیا گیا.تحصیل بار ڈسکہ اور دیپالپور کو 25، 25 کی گرانٹ دی گئی.
ملک صہیب احمد بھرتھ کا کہنا تھا کہ فی میل بار روم کی تعمیر کا جلد آغاز کر رہے ہیں،بار ایسوسی ایشنز گرانٹ سے بار کے مسائل کو حل کریں، ینگ وکلاء کے لیے انٹرن شب پروگرام کا آغاز جلد کر رہے ہیں،وزیر اعلی پنجاب وکلا کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنے لیے متحرک ہیں۔
ایم پی ایز و صدور بار کا گرانٹ دینے پر سی ایم پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔
صدور بار ایسوسی ایشنز کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نے برابری کی سطح پر تمام بارز کو گرانٹ دی.
وکلا کمیونٹی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کے شگر گزار ہیں.
تقریب میں سیکرٹری قانون پنجاب آصف بلال لودھی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔