ویب ڈیسک: جرمنی کے شہر ایرفرٹ میں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور کنونشن سینٹر جانے والے اہم راستے بند کر دیے۔ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب آئندہ علاقائی انتخابات میں AfD کی تاریخی کامیابی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق تقریباً 15 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی۔ مظاہرین میں ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی تنظیموں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کارکن شامل تھے، جنہوں نے سڑکوں اور شاہراہوں پر بیٹھ کر اجلاس کے شرکا کی آمد میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ صورتحال کے پیش نظر جرمنی بھر سے اضافی پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔
احتجاجی اتحاد "ویڈرزیٹزن" (Resist) کے ترجمان جارج بیکر نے کہا کہ مظاہروں کا مقصد جرمنی میں انتہا پسند سوچ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں فاشزم کے ابھرتے ہوئے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب AfD کا دو روزہ سالانہ اجلاس جاری ہے، جس میں شریک چیئرمین ایلس وائڈل اور ٹینو کروپالا کی دوبارہ قیادت کے لیے انتخاب متوقع ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقی جرمنی کی دو اہم ریاستوں سیکسنی انہالٹ اور میکلن برگ ویسٹرن پومیرانیا میں انتخابات قریب ہیں۔
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق AfD کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض سرویز میں جماعت کی حمایت 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ چانسلر فریڈرش مرز کی قدامت پسند جماعت CDU/CSU کو تقریباً 22 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے۔ سیکسنی انہالٹ میں AfD کو 41 فیصد تک حمایت ملنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جو اسے پہلی مرتبہ کسی ریاست میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں لا سکتی ہے۔
AfD اپنی سخت امیگریشن پالیسی، قوم پرستانہ بیانیے اور معاشی مسائل پر حکومتی کارکردگی پر تنقید کے باعث عوام کے ایک حلقے میں مقبول ہو رہی ہے۔ تاہم ناقدین جماعت پر نسل پرستانہ رجحانات اور جرمنی کی جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں، جبکہ ملک کی مرکزی سیاسی جماعتیں اب بھی AfD کے ساتھ کسی بھی اتحادی حکومت سے انکار کر رہی ہیں۔
AfD کی قیادت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ جماعت جرمنی کے جمہوری آئین کی حمایت کرتی ہے۔ رواں سال ایک جرمن عدالت نے ملکی انٹیلی جنس ادارے کو AfD کو "انتہا پسند جماعت" قرار دینے کی سابقہ درجہ بندی پر عملدرآمد عارضی طور پر روکنے کا بھی حکم دیا تھا۔