سٹی42: سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہاوّلین ترجیح غزہ میں مستقل جنگ بندی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے فی الوقت سب سے بڑی ترجیح غزہ میں مستقل جنگ بندی کا حصول ہے۔ اسرائیلی فورسز غزہ کے عام شہریوں کو روند رہی ہیں، اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے روس کے دورے کے دوران ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران اسرائیل کے ساتھ نارمل تعلقات کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوجاتی۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی ممکن نہیں ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیلی فورسز غزہ کے عام شہریوں کو روند رہی ہیں۔ یہ سب کچھ غیر ضروی ہے اور قابلِ قبول نہیں ہے۔ اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
غزہ پر عرصہ سے حکومت کرنے والی حماس اور اسلامک جہاد کے پانچ ہزار مسلح کارکنوں نے 7 اکتوبر 2023 س کی صبح اچانک اسرائیل کے جنوبی علاقہ سے اندر گھس کر بڑے پیمانہ پر قتل عام کیا تھا اور 12 سو سے زیادہ افراد کو قتل کر دیا تھا جن میں سے کچھ فوجی باقی عام شہری تھے، حماس اور اسلامک جہاد کے کارکن کچھ فوجیوں سمیت 251 افراد کو اغوا کر کے اپنے ساتھ غزہ لے گئے تھے۔
اسی شام اسرائیل نے غزہ مین حماس کے ٹھکانوں پر ابتدائی حملے شروع کئے اور اگلے روز اعلانیہ جنگ شروع کر دی جس کے زد میں غزہ کے عام شہری بھی آئے۔۔ تب سے اب تک غزہ میں حماس کی گنتی کے مطابق 57 ہزار سے زائد افراد مارے گئے ہیں، اسرائیل کے مطابق ان مین سے 23 ہزار سے زیادہ حماس کے کارکن ہیں۔ حماس اور دوسرے ذرائع کے مطابق مرنے والوں مین سے نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ دس لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہوگئے۔