سول سیکرٹریٹ کے ملازمین تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر سراپا احتجاج

سول سیکرٹریٹ کے ملازمین تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر سراپا احتجاج

قیصرکھوکھر: سول سیکرٹریٹ کے ملازمین تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر سراپا احتجاج،انہوں نے کہا ہے کہ مہنگائی نے جینا دوبھرکردیا، حکومت بھی عام آدمی کو ریلیف دینے  کے لئے کچھ نہیں کررہی۔

تفصیلات کے مطابق سول سیکرٹریٹ ایمپلائزایشوسی ایشن کے عہدیدار اور دیگرسرکاری ملازمین حالیہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر پریشان ہیں، ملازمین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوچکا ہے۔ آٹا، چینی، سبزیوں سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں جبکہ مہنگائی کے مقابلے میں تنخواہیں بہت کم ہیں۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں توقع تھی کہ حکومت تنخواہوں میں اضافہ کر کے ریلیف دے گی مگر تبدیلی سرکار نے ہمیں مایوس کر دیا ہے، ملازمین کہتے ہیں حکومت خود تو ریلیف دے نہیں رہی، اپنے فیصلوں پربھی عملدرآمد کروانے میں نا کام ہے۔

 

پٹرول مافیا نے حکومت کے تمام اقدامات کو پس پشت ڈال دیا، اسی طرح آٹااور چینی مافیا بھی حکومتی احکامات کو خاطر میں نہیں لارہے، مبصرین بھی تاجر طبقے کی جانب سے مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے کو حکومتی ناکام قرار دے رہے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی  کے لئے جینا مشکل ہوتا جا رہاہے، ایسی صورتحال میں حکومت اگر عام آدمی کو ریلیف نہیں دے سکتی تو کم ازکم سرکاری نرخنامے پرعملدرآمد تویقینی بنائے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے آٹے اور چینی کی قیمت تو مقررکر دی گئی لیکن اس پرعملدرآمد نہ ہوسکا، شہر میں آٹے کا20 کلو کا تھیلا 850 روپے کی بجائے1050 روپے جبکہ چینی 70 کی بجائے80  سے 85 روپے فی کلو میں ہی فروخت ہوتی رہی، فلورملزایسوسی ایشن نے حکومت کی گندم اجرائی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے سرکاری گندم  کا کوٹہ لینے سے انکار کردیا جس کے باعث آٹے کی قیمت میں کمی نہ آسکی۔

دوسری طرف اکبری منڈی میں چینی کی قیمت 74 سے76 روپے فی کلو لگائی گئی اورمارکیٹ میں دکانداروں کوچینی 80 سے85 روپےمیں فروخت کرتے رہے۔