ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب کابینہ نے کم عمر میں شادی کے تدارک کے بل کو ڈیفر کر دیا

پنجاب کابینہ نے کم عمر میں شادی کے تدارک کے بل کو ڈیفر کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پنجاب کی صوبائی کابینہ نے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے پیش کیے گئے بل کو مؤخر کر دیا۔ کم عمری کی شادیوں کے تدارک کے لیے یہ بل اپریل میں ٹیبل کیا گیا تھا لیکن 10 ماہ بعد بھی یہ قانون نہ بن سکا۔

رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے پرائیویٹ ممبر کی حیثیت سے یہ بل پیش کیا تھا جسے پنجاب حکومت نے اڈاپٹ کر لیا۔ سارہ احمد جو کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن بھی ہیں اُنہوں نے چائلڈ میرج ایکٹ کا بل پیش کیا اور بتایا کہ اس پر 9 سے 10 میٹنگز ہو چکیں، جس میں انہوں نے ذاتی طور پر بریفنگ دی۔

ان کا کہنا تھا  کہ برٹش ہائی کمیشن اور مختلف این جی اوز نے اس بل کی تیاری میں بھرپور تعاون کیا ہے اور حکومت نے بھی مکمل سپورٹ فراہم کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی اس معاملے پر سنجیدہ ہیں۔

چائلڈ میرج ایکٹ کا مقصد بچوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنے پر 3 سال قید اور 2 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ نکاح خواہ کو شناختی کارڈ دیکھنے کی پابندی بھی ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے پر والدین، سرپرست اور نکاح خواہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سارہ احمد نے مزید بتایا کہ علمائے کرام کی رائے ابھی تک موصول نہیں ہوئی جس کی وجہ سے بل کو ڈیفر کیا گیا۔ اس بل کے لیے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ہوم ڈیپارٹمنٹ، لاء ڈیپارٹمنٹ اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ارکان شامل تھے۔

کابینہ کی منظوری کے بعد اس بل کو پنجاب اسمبلی سے منظور کرانے کا عمل جاری تھا لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان اسمبلی کی رائے کے بعد اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔