سٹی42: افغانستان کے طالبان کی عبوری حکومت نے مسلمہ انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک انسان کو ہزاروں انسانوں کے مجمعے کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق خوست کے ایک سٹیڈیم میں سزائے موت کے وقت 80 ہزار کا مجمع تھا، قاتل نے خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی گھر کے 13 افراد کو قتل کیا تھا۔
طالبان انتظامیہ نے مقتولین کے خاندان کے 13 سالہ لڑکے سے فائرنگ کرواکر قاتل کو سرعام سزائے موت دلوائی۔
طالبان سپریم کورٹ کے مطابق لواحقین نے مجرم کو معاف کرنے سے انکار کردیا تھا، لواحقین کی طرف سے معافی رد کرنےکے بعد اسلامی قانون کے تحت قاتل کو سزا دی گئی۔
افغانستان کے طالبان کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک منہ نہیں لگاتے، اس ریجیم کو عبوری طور پر تسلیم کیا گیا کہ وہ افغانستان مین الیکشن کروائے گی اور اقتدار افغان عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل ہو گا۔ اس دوران پاکستان اور کچھ دوسرے ممالک نے افغان طالبان کی ملک میں امن برقرار رکھے اور نطام چلانے کے لئے حتی المقدور مدد کی جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک اس ریجیم سے کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے سرعام سزائے موت کو غیرانسانی، ظالمانہ اور عالمی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2021 سے اب تک افغانستان میں 11 افراد کو سرعام سزائے موت دی جاچکی ہے ۔