ویب ڈیسک :مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اور امریکی روزگار کے آنے والے اعداد و شمار کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں استحکام اور معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
منگل کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,059.81 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دعوے اور تہران کی جانب سے اس کی تردید کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کی توجہ سونے کی جانب مبذول کرا دی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رواں ہفتے سامنے آنے والی امریکی جاب مارکیٹ رپورٹ میں کمزوری دیکھی گئی تو امریکی ڈالر پر دباؤ آئے گا، جس کے نتیجے میں سونے کے نرخ مزید بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب سٹی گروپ کے مالیاتی ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ سونے کی قیمتیں اگلی سہ ماہی تک 4,500 ڈالر اور اگلے سال کی پہلی چھ ماہی تک 5,000 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح کو چھو سکتی ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ میں ستمبر کے دوران فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کا 65 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اگر ستمبر میں سود کی شرح میں اضافے کے امکانات مدہم ہوتے ہیں تو اس سے سونے کی قیمتوں کو مزید تقویت ملے گی، جبکہ رواں ہفتے سامنے آنے والی امریکی جاب مارکیٹ رپورٹ بھی سونے کے مستقبل کی سمت طے کرے گی۔
عالمی منڈی میں سونے کے ساتھ ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جہاں چاندی 1 فیصد اضافے کے ساتھ 58.74 ڈالر اور پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے سے 1,646.59 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی۔