سٹی42: پاکستان کے سابق وزیر خارجہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور انٹرنیشنل امور کے نابغہ شہید ذوالفقار علی بھتو کے نواسے بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سازش اور ہماری غلطیوں کی وجہ سے دہشت گردی عروج پر ہے۔
گڑھی خدا بخش میں شہیدِ جمہوریت قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی پر ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں، سیاسی کارکنوں اور جمہوریت کے پروانوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سازش کی وجہ سے دہشت گردی عروج پر ہے، دہشت گرد کبھی مذہب، کبھی قوم پرست اور علیحدگی پسندوں کے پیچھے چھپتے ہیں۔
ہمیں مقابلہ کرنا ہے
ہمیں پاکستانیوں کے خون سے کھیلنے والے درندوں کا مقابلہ کرنا ہے، بلوچستان میں مزدوروں کو شہید کیا جاتا ہے، کبھی کراچی میں بلوچ بہنوں کو خودکش بمبار بنایا جاتا ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ لوگ اب پاکستان سے جنگ چھیڑ چکے ہیں اور عوام کو شہید کررہے ہیں یہ لوگ خود کو عالمی طاقتوں کو بیچتے ہیں اور اپنے لوگوں کو شہید کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے تسلیم کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری بھی غلطیاں ہیں جن سے یہ دہشتگردی عروج پر پہنچی۔
ملک میں سیاست اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ نقصان ہورہا ہے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑی آواز تھیں، کیا ہم بھول چکے ہیں کہ ہم نے سب سے بڑی قربانی دی ہے
حکومت کے بجٹ کو ووٹ کیسے دیں گے
بلاول کا کہنا تھاکہ ہم حکومت کے ساتھ بیٹھ کر پی ایس ڈی پی فائنل کریں گے، بجٹ پر مشاورت ہوگی تب ہی اس کے حق میں ووٹ دیں گے بصورت دیگر مشاورت کے بغیر بنائے گئے بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے۔
مائیٹی سندھو کو بچانا ہے
چیئرمین بلاول نے کہا کہ ایک زمانے میں ’مائٹی انڈس‘ (عظیم دریائے سندھ) کہا جاتا تھا، اس کو ہم نے بچانا ہے، میں دنیا کا شکر گزار ہوں کہ یہ ہماری بات مان چکے ہیں کہ ہمیں مالی طور پر انڈس بیسن کو فعال کرنے میں مدد کریں گے، اسی طرح وہ دریائے سندھ کو بچانے میں تکنیکی طور پر ساتھ دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو یکطرفہ فیصلے بھارت کر رہا تھا، بھارت پانی پر ڈاکا مارتا آرہا ہے، میں بھارت کا مقابلہ کر کے آیا ہوں، جو ساحلی علاقوں کے حق ہیں، جو آپ کا کیس ہے، وہ تو ہم عالمی دنیا میں لڑتے آ رہے ہیں، مزید کہا کہ آئین میں ترامیم کروا کر آیا ہوں، ماحولیات کا موضوع ہمارے آئین میں موجود نہیں تھا، وہ ابھی پاکستان پیپلزپارٹی نے دلوایا۔
بلاول بھٹو نے کہا، پانی کی تقسیم کی جنگ عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، دنیا کو بتایا ہے کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہمیں سندھ دریا کو بچانا ہے میں وزیر خارجہ رہا ہوں اور پانی کی تقسیم کی جنگ عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، دنیا کو بتایا ہے کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے، ہم عالمی دنیا میں پانی کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں بھارت کو پانی روک رہا ہے میں اس کا عالمی سطح پر مقابلہ کرکے آیا ہوں بھارت ہمارے پانی پر ڈاکے مارتا آرہا ہے۔
آئینی عدالت اور صوبوں کی برابری
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ آئینی عدالت ہوگی اور اس میں تمام صوبوں کی برابری کی نمائندگی ہوگی، یہ پیپلزپارٹی کی کامیابی ہے کہ چاروں صوبوں کے برابری کی نمائندگی ہوگی۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم پر یہ فرض بھی ہے کہ ہم آج کے مسائل کا مقابلہ کریں، حقائق یہ ہیں کہ پاکستان تاریخی مسئلے سے گزر رہا ہے، ہم مثبت سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور اس سے ہی ہم نے اپنے عوام کی نمائندگی کرنی ہے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ عدالتی اصلاحات، آئینی عدالت ہوگی تو برابری کی بنیاد پر نمائندگی ملے گی،۔
اٹھارویں ترمیم نے شہید زیڈ اے بھٹو کا آئین بحال کیا
گڑھی خدا بخش میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سب ذوالفقار علی بھٹو کے علم بردار ہیں اور بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، صدر زرداری نے گڑھی خدا بخش کے ساتھ اپنا فرض نبھایا اور صدارتی ریفرنس کے ذریعے شہید بھٹو کو انصاف دلایا عوام کی عدالت نے بھٹو کو بے گناہ قرار دیا اور پچاس سالہ جدوجہد کے بعد بھٹو کو انصاف ملا۔
بلاول نے کہا کہ آصف زرداری نے 18ویں ترمیم کی صورت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا آئین بحال کیا صوبوں کو حق دلا کر قائد عوام کا حق پورا کیا، شہید بھٹو کو نشان پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا کیوں کہ بھٹو نے عوام کے لیے جہدوجہد کی، محنت کشوں کو حقوق دیے۔
قیدی نمبر 804بھی دہشت گردی کے خلاف اپنا حق ادا کرے
ان کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 کو سیاست کرنے اور اپوزیشن میں رہنے کا حق ہے مگر وہ دہشت گردی کے خلاف بھی اپنا حق (فرض) ادا کرے، ہم پاکستان کھپے کہنے والے لوگ ہیں، میں ہمیشہ وفاق کے ساتھ کھڑا رہوں گا اور ہر سازش کو ناکام بناؤں گا۔
شہید بھتو کی لیگیسی
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایک انقلابی فیصلہ کیا، وہ روایت چھوڑ کو اپنی بیٹی کو سیاسی جانشین بنایا، آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کا پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ میں وہ کردار رہا ہے کہ جو اسلام کی تاریخ میں بی بی زینب کا کردار تھا، بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کا نام اور ان کا مشن جاری رکھا، مزید کہنا تھا کہ وہ بھٹو، بھٹو کر کے سب کو بھٹو بنا گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں پر اپنی سیاسی منزل طے کرتے ہیں، ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جہدوجہد اور کامیابیوں پر فخر کرتے ہیں، انہوں نے آئین، ایٹم بم کا تحفہ دیا، جمہوریت دی، مزدور کے حقوق دیے، کسانوں کے حقوق دیے، عوام کو ترقی دلوائی۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ صدرآصف زرداری نے 18ویں ترمیم کے ذریعے 73کے آئین کو بحال کیا، جو ہم نے حاصل کیا ہے میں اس پر بھی فخر کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں سے لوگ سندھ میں آکر اپنا علاج کرواتے ہیں، صوبہ سندھ صحت کے حوالے سے سب سے آگے ہے، مگر سب سے تاریخی پیپلز ہاؤسنگ منصوبہ ہے، پہلے قائد عوام نے لوگوں کو زمین کا مالک بنایا اور آج میں 20 لاکھ خاندانوں کو اپنا گھر بھی دے رہا ہوں اور اپنی زمین کا مالک بھی بنا رہا ہوں۔بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ یہ قائد عوام کے بعد نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، بلکہ دنیا بھر میں گھر بنانے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، جو پاکستان پیپلز پارٹی کروا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سیاست کا مطلب خدمت سمجھا ہے، ہم نے سیاست کا مطلب نفرت پھیلانا، تقسیم اور لوگوں کو آپس میں لڑوانا نہیں سمجھا، انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس بات پر قائل کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ جو ہمارا نقصان ہو رہا ہے، اس میں ہمارا نہیں آپ کا قصور ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ میں عالمی دنیا، وفاقی حکومت کا شکرگزار ہوں کہ اس منصوبے کی حد تک وہ ہمارا ساتھ دے رہے ہیں، اور کامیابی کے ساتھ یہ منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی جنگ جس میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ پاکستان کا یہ جنگ تو میں عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، جب وزیر خارجہ تھا، تو دنیا کو اس بات پر منایا ہے کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے، ان کو کہا کہ آئیں پاکستان کا ساتھ دیں۔