ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انٹرنیشنل آئل مارکیٹ میں تیل کی قیمت مزید کم، پاکستان  تک اثر پہنچے گا

Crud Oil Price Plunged, Brent Oil Price, Crud futures, USA China trade war, Trump Tariffs, China reacts to the Trump Tariffs
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وسیم عظمت:  پاکستان میں  پٹرول، ڈیزل، کیروسین آئل کی قیمتیں زیادہ ہونے  کی شکایت کرنے والے شہریوں کے لئے خوشخبری ہے کہ جمعہ کے روز انٹرنیشنل آئل مارکیٹ مین کروڈ آئل کی قیمت میں مزید غیر معمولی کمی ہو گئی ہے۔ اس کمی کے اثرات کچھ دن بعد ہی سہی پاکستان کے پٹرولیم پروڈکٹس استعمال کرنے والے شہریوں تک بھی ضرور پہنچیں گے۔

یہ اثرات پٹرول ڈیزل کی قیمت میں کمی کی صورت میں آئیں گے لیکن خدشہ ہے کہ اس کے ساتھ عالمی کساد بازاری کے بھی تھوڑے بہت اثرات پاکستان کی معیشت تک پہنچیں گے جو آخر کار عام آدمی تک بھی پہنچیں گے۔

سرسری اندازوں کے مطابق انٹرنیشنل آئل مارکیٹ میں تیل کی قیمت جمعہ کے روز مزید گرنے کے بعد اسی سطح پر چند ہفتے برقرار رہی تو پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پندرہ روپے سے بیس روپے فی لٹر تک کم کرنا ممکن ہو سکے گا، تیل کی قیمت میں گراوٹ مزید بڑھی تو پاکستان مین پٹرول کی قیمت ایک بار پھر دو سو روپے فی لٹر سے بھی نیچے آنا ممکن ہو جائے گا۔

کساد بازاری کا خوف

جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جو کہ 2021 میں کورونا وائرس کی وبا کے عروج کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر  آ گئی ہے۔ خام تیل کی مارکیٹ جمعہ کو ایک بار پھر سخت گرنے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی مارکیٹیں مستقبل قریب میں عالمی کساد بازاری کے حقیقی امکان کو دیکھ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ، مارکیٹ نے تین سال کی ایک بڑی سپورٹ رکاوٹ کو توڑ دیا ہے۔

امریکہ چین تجارتی جنگ

خام تیل کی قیمت میں یہ ڈرامائی کمی امریکہ اور چین کے درمیان عالمی تجارتی جنگ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے  چینی پروڈکٹس پر  ٹیرف میں اضافے کے جواب میں۔  چین نے 10 اپریل سے تمام امریکی اشیا پر اضافی 34% ٹیرف لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

امریکہ اور چین کی ٹیرف وار پر  عالمی منڈیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، یعنی یہ تصور کیا گیا کہ امریکہ اور چین کے ان اقدامات کے نتیجہ میں پیداواری سرگرمی کم ہو گی اور اس کے نتیجہ مین خام تیل کی ضرورت بھی کم ہو گی۔ جب ضرورت کم ہو گی تو خام تیل کی قیمت ابھی سے کم کر دی جائے تاکہ جس تاجر کے پاس تیل کا جو ذخیرہ موجود ہے وہ بروقت بک جائے، تاکہ مستقبل مین خام تیل کی قیمت مزید گرے تو آج اپنا تیل بیچ دینے والے نقصان سے بچ جائیں۔ 

اس سوچ کے تحت تیل کی قیمتین گرنا شروع ہوئیں تو گرتے گرتے  2021` کے کورونا لاک ڈاؤن کے دنوں کی حد تک گر گئیں۔ 2021 مین کورونا لاک ڈاؤن سے دنیا کی معیشت کو جیسے ہنگامی بریک لگ گئی تھی۔ کارخانوں میں سٹاف کی آمد بند ہو گئی تھی اور بازاروں، سڑکوں پر شہریوں کی آمد پر پابندیاں لگ گئی تھیں۔  اس سب  لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں تیل کی قیمت بہت زیادہ گر گئی تھی۔ 

آج جمعہ کے روز  امریکی برینٹ آئل کے  فیوچر کی قیمت  $5.30، یا 7.6 فیصد  گر کر 64.84 ڈالر فی بیرل ہو گئی جب کہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس کروڈ آئیل کی قیمت  5.47 ڈالر فی بیرل یعنی  8.21 فیصدر گر گئی اور   $61.48 س فی بیرل رہ گئی۔  یہ دونوں بینچ مارک دو سالوں میں اپنے سب سے بڑے ہفتہ وار نقصانات کے لیے ٹریک پر  ہیں۔

تجارتی جنگ ایک حقیقت بن رہی ہے

سیکسو بینک میں اجناس کی حکمت عملی کے ہیڈ  اولے ہینسن نے اس صورتحال پر کہا، "امریکی محصولات پر چین کا جارحانہ ردعمل سب کچھ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہم ایک عالمی تجارتی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایک ایسی جنگ جس کا کوئی فاتح نہیں ہے اور اس سے اقتصادی ترقی اور اہم اشیاء جیسے خام تیل اور صاف شدہ مصنوعات کی مانگ کو نقصان پہنچے گا۔"اولے ہینسن، ایک کموڈٹی سٹریٹجسٹ  ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اس تجارتی تنازع سے عالمی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچے گا اور تیل کی طلب میں کمی آئے گی۔

فروخت کو بڑھانا پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) اور اس کے اتحادیوں، جنہیں OPEC+ کہا جاتا ہے، کی طرف سے پیداوار میں اضافے کے منصوبوں کو تیز کرنے کا فیصلہ تھا۔اوپیک گروپ اب مئی میں مارکیٹ میں 411,000 بیرل یومیہ بڑھانےکا ارادہ رکھتا ہے، پہلے منصوبہ  135,000 بیرل یومیہ سپلائی تک محدود رہنے کاتھا۔  آئل سپلائی میںیہ تبدیلی تیل کی قیمت کو مزید گرائے گی لیکن یہ  معیشت پر مزید گہرے اثرات مرتب کرے گی

افراط زر میں اضافہ، اقتصادی ترقی میں کمی

OPEC+ کے اس اقدام نے ان خدشات میں مزید اضافہ کیا کہ عالمی تیل کی منڈی کو ضرورت سے زیادہ رسد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دریں اثنا، امریکی محصولات، جو تیل، گیس، اور بہتر مصنوعات کی درآمدات کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں، اب زیادہ شدت سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان ٹیرفس سے  افراط زر بڑھے گی اور  اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی۔ اس معاشی تنگی سے  تجارتی تنازعات میں شدت آئے گی، یہ سب عوامل تیل کی قیمتوں پر بہت زیادہ وزن رکھتے ہیں۔

آج جمعہ کے روز آئل مارکیٹ میں ہوئی  پیش رفت کے ردعمل میں، گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں نے دسمبر 2025  کے لئے تیل کی قیمتوں کی پیشن گوئی میں تیزی سے کمی کی؛ انہوں نے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے اہداف کو بالترتیب $66 اور $62 فی بیرل سے ہر ایک کیلئے 5 ڈالر  کی کمی کی ہے۔

گولڈ مین سیکس  بینک کے تیل کی تحقیق کے سربراہ ڈین اسٹروئین نے اپنی فورکاسٹ میں کمی کے متعلق بات کی تو انہوں نے کساد بازاری کے خدشہ کی طرف واضح اشارہ کیا۔ 

ٹیل کی قیمت میں کمی کا فائدہ، کساد بازاری کا نقصان

پاکستان جیسے ملکوں کے کنزیومرز کو تیل کی قیمت میں زبردست کمی جاری رہی تو اس  کمی کا فائدہ براہ راست پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست  کمی  کی صورت میں ہو گا جو درحقیقت انتہائی محدود ہو گا۔ موٹر سائیل استعمال کرنے والوں کو  اپنی موجودہ کنزمپش کی نسبت زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپے ماہانہ تک فائدہ ہو سکے گا اور کار استعمال کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ تین ہزار روپے تک بچت ہو سکے گی۔

کساد بازاری پھیلی تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر ہو گا، ایکسپورٹ انڈسٹری کی پیداوار کم ہوئی تو  روزگار کے مواقع کم ہوں گے، بے روزگاری بڑھی تو اجرتین کم ہوں گی، معاشی سرگرمی میں سکڑاؤ پیداواری  شعبہ سے شروع ہو گا لیکن اس کا اچر دیکھتے ہی دیکھتے تمام شعبوں پر مرتب ہو گا، تجارتی سرگرمیاں سکڑیں گی اور ان سب کے ساتھ سروسز کے شعبہ میں بھی سرگرمی کم ہو گی۔ پٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا معمولی فائدہ تو ہو گا لیکن روزگار سے لے کر آمدن تک سب کچھ سکڑ جانے کے نقصانات کہیں زیادہ ہوں گے،

کووڈ 19 پینڈیمک والے دن واپس آ رہے ہیں؟

جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی  2021 میں COVID-19 وبائی بیماری کے عروج کے بعد سے تیل کی سب سے کم قیمتوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔  اس کمی کے معیشت پر اثرات بھی غالباً وہی ہوں گے جو کووڈ وبا کے دوران دنیا کی معیشت پر مرتب ہوئے تھے، یعنی کساد بازاری، مہنگائی، بے روزگاری، افراط زر اور  ان سب سے متعلق مزید مسائلْ

یہ کمی جزوی طور پر حالیہ امریکی ٹیرف میں اضافے پر چین کے ردعمل کی وجہ سے ہے۔ 10 اپریل سے، چین تمام امریکی امپورٹس پر 34 فیصد ٹیرف لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 


مزید برآں، پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) اور اس کے اتحادیوں نے مئی میں تیل کی پیداوار میں 411,000 بیرل یومیہ اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اضافے سے تیل کی عالمی منڈی میں زائد سپلائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی محصولات تیل اور گیس کی درآمدات کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں، مجموعی طور پر معاشی اثرات ممکنہ طور پر اکنامک گروتھ  کو سست کر دیں گے اور افراط زر میں اضافہ کریں گے۔

ان پیشرفتوں کی روشنی میں، گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں نے تیل کی قیمتوں کی اپنی پیشن گوئی کو  کم کر دیا ہے۔ انہوں نے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں کے اہداف کو بالترتیب $66 اور $62 فی بیرل سے پانچ ڈالر کم کر دیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کساد بازاری کے خطرات اور اوپیک + سپلائی میں اضافہ مستقبل میں کروڈ آئل کی  قیمتوں کو مزید نیچے دھکیل سکتا ہے۔

کروڈ آئل کی قیمت میں کمی زیادہ دن تک برقرار رہی تو اس کا پاکستان میں پٹرول، ڈیزل اور کیروسین کی کنزیومر پرائس پر صرف ایک ہی اثر ہو گا، یعنی کی کنزیومر پرائس مین کمی۔ اگر حکومت نے  اس کمی کو سارا صارفین کی طرف منتقل کیا تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت صرف موجودہ کمی کی بنیاد پر ہی پندرہ روپے فی لٹر تک کم ہو سکے گی۔

سرسری اندازوں کے مطابق انٹرنیشنل آئل مارکیٹ میں تیل کی قیمت جمعہ کے روز مزید گرنے کے بعد اسی سطح پر چند ہفتے برقرار رہی تو پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پندرہ روپے سے بیس روپے فی لٹر تک کم کرنا ممکن ہو سکے گا، تیل کی قیمت میں گراوٹ مزید بڑھی تو پاکستان مین پٹرول کی قیمت ایک بار پھر دو سو روپے فی لٹر سے بھی نیچے آنا ممکن ہو جائے گا۔

،"