ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پولیس یا تفتیشی ادارے کی بلاجواز تاخیر کا بوجھ ملزم پر نہیں ڈالا جاسکتا؛ اقدام قتل کے ملز م کی ضمانت منظور

پولیس یا تفتیشی ادارے کی بلاجواز تاخیر کا بوجھ ملزم پر نہیں ڈالا جاسکتا؛ اقدام قتل کے ملز م کی ضمانت منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے اقدامِ قتل کے مقدمے میں طویل قانونی تاخیر کے باعث ملزم علی شہزاد عرف شان علی کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔ فیصلے میں  اہم اصول طے کیاگیا ہے کہ پولیس یا تفتیشی ادارے کی بلاجواز تاخیر کا بوجھ ملزم پر نہیں ڈالا جا سکتا، جبکہ تیز رفتار اور منصفانہ ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی آئینی حق ہے۔

جسٹس غلام سرور نہنگ نے ملزم علی شہزاد عرف شان علی کی درخواستِ ضمانت پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسے اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔تحریری فیصلے کے مطابق ملزم 3 مارچ 2025 سے مسلسل جیل میں قید ہے، تاہم قانونی مدت گزرنے کے باوجود اس کے خلاف مقدمے کا ٹرائل مکمل نہیں ہوسکا۔عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں چالان پیش کرنے میں پولیس اور تفتیشی ادارے کی جانب سے آٹھ ماہ سے زائد تاخیر کی گئی۔ ایسی صورت میں تفتیشی ادارے کی جانب سے ہونے والی تاخیر کا خمیازہ ملزم کو نہیں بھگتنا پڑ سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے تحت تفتیشی ادارے بلاجواز تاخیر کے بغیر چالان عدالت میں جمع کروانے کے پابند ہیں۔ اگر چالان بروقت پیش نہ کیا جائے تو اس کا منفی اثر ملزم کے قانونی حقوق پر نہیں ڈالا جا سکتا۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کی آرڈر شیٹ کا جائزہ لینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مقدمے کی کارروائی میں ہونے والی تاخیر ملزم کی وجہ سے ہوئی۔ عدالت کے مطابق محض عمومی نوعیت کے الزام کی بنیاد پر ملزم سے قانونی تاخیر کے باعث حاصل ہونے والا حقِ ضمانت نہیں چھینا جا سکتا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ گواہان کی عدم موجودگی یا ان کی شہادتیں قلمبند نہ ہونے کی ذمہ داری بھی ملزم پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ اگر ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے نہیں ہوئی تو اسے مسلسل حراست میں رکھنا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
فیصلے میں دفعہ 344 ضابطہ فوجداری کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ ٹرائل کورٹ جب بھی مقدمے کی کارروائی ملتوی کرے تو التوا کی تفصیلی وجوہات آرڈر شیٹ میں تحریر کرنا ضروری ہے۔جسٹس غلام سرور نہنگ نے قرار دیا کہ منصفانہ اور تیز ترین ٹرائل ملزم کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے کسی شخص کو مسلسل حراست میں رکھنا اس وقت سزا کی شکل اختیار نہیں کر سکتا جب مقدمے میں تاخیر اس کی وجہ سے نہ ہوئی ہو۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم کے خلاف کسی سابقہ سزا یا اسے خطرناک مجرم قرار دینے کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔مقدمے کے پس منظر کے مطابق ملزم کے خلاف 25 فروری 2025 کو تھانہ سید والا، ننکانہ صاحب میں اقدامِ قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 324، 148 اور 149 شامل کی گئی تھیں۔لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے میں ہونے والی قانونی تاخیر، ملزم کی طویل حراست اور ٹرائل کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد علی شہزاد عرف شان علی کو بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار قرار دیا۔عدالت نے ملزم کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔