ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کشمیریوں کا کشمیر سے تعلق کسی تحریک سے ختم نہیں ہونا چاہئے، اعظم نذیر تارڑ

Azam Nazir Tarar, Kashmiri action committee ,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42; آزاد کشمیرکے پنجاب میں مقیم جموں کے مہاجروں کے 12 حلقوں کے تمام ووٹر کشمیر سے ہیں، کسی" تحریک" کے نتیجے میں ان کشمیریوں کا اپنے وطن آزاد کشمیر سے  تعلق یک لخت نہیں ختم ہونا چاہئے۔ یہ بات پاکستان کے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا،     یہ لوگ بھارت کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کے دوران اور پاکستان کی خاطربے گھر ہوئے تھے۔ ان لوگوں کو پاکستان نے مہمانوں کی طرح آباد کیا ان کا تعلق کشمیر سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔  آزاد کشمیر کے ان 12 نشستوں کے حلقوں کے تمام ووٹرز کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، یہ لوگ بھارت کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے اور پاکستان کی خاطربے گھر ہوئے، کسی تحریک کے نتیجے میں یہ تعلق یک لخت تو بالکل بھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا، جب سیاست کی بات ہوتی ہے تو  قانونی اور  آئینی نکات پر ٹھنڈے  دماغ سے بات کرنی چاہیے ،سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے اور حل تلاش کرنا چاہیے۔

وزیرقانون نے کہا،  ایک جامع آئینی پیکج اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، اس اتفاق رائے میں تمام کشمیری قیادت شامل ہو، اس میں ان لاکھوں کشمیری مہاجروں  کے نمائندگان سے بھی بات ہونی چاہیے جن کا کہا جارہا ہے کہ ان کو ووٹ کا حق نہیں ہونا چاہیے، یہ بہت بڑا فیصلہ ہے جس میں اتفاق رائے بہت ضروری ہے۔

 لوگوں کو یہ اعتراض بھی ہوسکتا ہے کہ منتخب لوگ یہ کام کیوں نہیں کررہے۔  یہ اعتراض بھی ہوسکتا ہے کہ عجلت میں یہ کام کیوں کیا جارہا ہے؟ آئینی ترمیم اور بنیادی حقوق پر فیصلے ایسے عجلت میں نہیں کرنے چاہیے، اس میں بہت ساری قانونی موشگافیاں اور آئینی ایشوز ہیں۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے کشمیر کے آئین میں ریفرنڈم کی کوئی شق نہیں، عجلت میں یہ چیز کی جائے تو نہیں سمجھتا کہ آئینی ،قانونی، سیاسی اور سماجی طور پر درست ہوگی، عجلت میں کی گئیں یہ چیزیں ہمارے کشمیر کاز کو نقصان پہنچائیں گی۔

دوسری جانب آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اورحکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات آج بھی جاری ہیں۔ وزیر پارلیمانی امور اور وزیراعظم کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو گیا ہے، ہم کشمیری عوام کے حقوق کے مکمل حامی ہیں، ان کے زیادہ تر مطالبات، جو عوامی مفاد میں ہیں، پہلے ہی منظور کیے جاچکے ہیں، باقی چند مطالبات جن کیلئے آئینی ترامیم درکار ہیں، ان پر بات چیت جاری ہے۔