ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں شہری کی ممکنہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کیخلاف درخواست، عدالت نے مغوی کے سندھ پولیس کیساتھ مقابلے میں ہلاکت کے باعث بازیابی کیس نمٹا دیا۔
ہائیکورٹ میں مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں شہری کی ہلاکت کے معاملے پر دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس جواد ظفر نے درخواستگزارشہناز اختر کی درخواست پر سماعت کی،سماعت کے دوران ایس پی سی سی ڈی ناصر عباس پنجوتا، آفتاب پھلروان سمیت دیگر افسران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ملک عمر طاہر کے ہمراہ پیش ہوئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ مغوی کہاں ہے؟ جس پر ایس پی سی سی ڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ مغوی کی بازیابی کیلئےتمام ریجنل دفاتر سے رابطہ کیا گیا، لیکن ان کے پاس کوئی کیس نہیں ملا۔وکیل درخواستگزارنےبتایا کہ پولیس نے سفیان کو فیصل آباد جیل سے نکلوا کر گھوٹکی، سندھ لے جاکر مبینہ مقابلے میں ہلاک کردیا۔ اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ملک عمر طاہر نے وضاحت کی کہ اگر پولیس مقابلہ ہوا ہے تو یہ سندھ پولیس نے کیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ "اگر پولیس مقابلہ سندھ میں ہوا ہے تو یہ معاملہ سندھ پولیس اور متعلقہ فورمز سے متعلق ہے، آپ وہاں رجوع کریں۔ عدالت نے درخواست نمٹا دی۔تاہم معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کوانکوائری کرکے پندرہ روز میں رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔