ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی بعد از گرفتاری درخواستِ ضمانت پر نیشنل کرائم اینڈ سائبر انویسٹی گیشن ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی جانب سے ایڈووکیٹ عمران رضا چدھڑ پیش ہوئے۔ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ یہ درخواست گزار کی پہلی بعد از گرفتاری درخواستِ ضمانت ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ اتھارٹی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ہے کہ مقدمے کی ایف آئی آر سال 2018 میں درج کی گئی تھی، تاہم ایف آئی آر میں کوئی ایسی شق یا الزام نہیں جو براہِ راست سعد الرحمان پر لاگو ہوتا ہو۔ مؤقف میں مزید کہا گیا کہ ڈکی بھائی کی اہلیہ نے ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا، جس کے بعد معاملے کی نوعیت تبدیل ہو گئی۔درخواست گزار کے مطابق، کیس کی تفتیش کرنے والے تمام افسران گرفتار ہیں اور جسمانی ریمانڈ پر ہیں، جبکہ ہمراہی ملزمان کی ضمانتیں پہلے ہی منظور ہو چکی ہیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ مقدمے میں شامل دفعات کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے، جو ممنوعہ نوعیت کے مقدمات میں شمار نہیں ہوتی۔وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ مقدمہ پرانا ہے، الزامات بے بنیاد ہیں، اور استغاثہ کے شواہد ناکافی ہیں، اس لیے عدالت درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد نیشنل کرائم اینڈ سائبر انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ عدالت نے سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App