ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سلمان خان پر فائرنگ صرف دھمکی نہیں بلکہ جان لیوا حملہ تھا: باڈی گارڈ کا انکشاف

سلمان خان پر فائرنگ صرف دھمکی نہیں بلکہ جان لیوا حملہ تھا: باڈی گارڈ کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ممبئی میں فلمی دنیا کے بڑے نام سلمان خان سے متعلق فائرنگ کیس میں عدالت کے اندر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے واقعے کی نوعیت کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ممبئی کی خصوصی عدالت میں سماعت کے دوران اداکار کے ذاتی سیکیورٹی گارڈ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ  فائرنگ کوئی خوف پھیلانے کی کوشش نہیں بلکہ براہِ راست جان لینے کی نیت سے کی گئی کارروائی تھی۔ اس کے مطابق حملہ آوروں نے جس انداز اور زاویے سے گولیاں چلائیں، وہ واضح طور پر نشانہ بنا کر قتل کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

گواہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ 13 اپریل کی شام سے ڈیوٹی پر موجود تھا اور علی الصبح تقریباً 4:55 بجے زور دار آوازیں سنائی دیں جو ابتدا میں پٹاخوں جیسی لگیں۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو افراد، ہیلمٹ پہنے، عمارت کی پہلی منزل پر فائرنگ کر رہے تھے جہاں اداکار کا بیڈروم واقع ہے۔

ملزمان نے مجموعی طور پر پانچ فائر کیے، جن میں سے ایک گولی بالکونی کے جال کو چیرتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ باڈی گارڈ نے عدالت میں واضح کیا کہ یہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اقدامِ قتل تھا، تاہم اسے پہلے سے موصول دھمکیوں کی تفصیلات کا علم نہیں تھا۔

یاد رہے کہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے باعث اداکار کی سیکیورٹی پہلے ہی سخت کر دی گئی تھی۔ استغاثہ کے وکیل مہیش ملی نے عدالت میں سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی، جس کی بنیاد پر گواہ نے ملزمان وکی گپتا اور ساگر پال کی شناخت کی۔

تحقیقات کے مطابق حملے سے دو روز قبل ایک شخص محمد رفیق سردار چوہدری نے علاقے کی ریکی کر کے ویڈیوزانمول بشنوئی کو ارسال کیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی جیل میں قید لارنس بشنوئی کی ہدایات پر اس کے بھائی انمول بشنوئی نے بیرونِ ملک سے منظم کی۔

عدالت میں ایک اور پولیس اہلکار نے بھی بیان دیا، جس نے واقعے کے فوری بعد جائے وقوعہ سے گولیوں کے خالی خول اکٹھے کیے تھے۔

قانونی ماہرین کے مطابق باڈی گارڈ کے اس بیان کے بعد کیس میں اقدامِ قتل کی دفعات مزید مضبوط ہو گئی ہیں، جس سے ملزمان کے خلاف قانونی گرفت سخت ہونے کا امکان ہے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ دنوں میں جاری رہے گی، جہاں مزید گواہان کے بیانات اہم کردار ادا کریں گے۔