(ویب ڈیسک) ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو شہید ہو گئے تھے۔ 3 ماہ سے بھی زائد عرصے کے بعد اب انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ایرانی حکومت نے خامنہ ای شہید کے جنازے کیلئے 3 روزہ سرکاری سوگ اور عوامی سطح پر آخری رسومات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں ہونے والی آخری رسومات کے موقع پر ملک کے کئی بڑے شہروں میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔اندازہ ہے کہ سپریم لیڈر کو الوداع کرنے کیلئے تہران میں تقریباً 2 کروڑ لوگ جمع ہو سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی میئر توکلی زادہ نے آخری رسومات کے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای کا آخری الوداعی سفر ملک کے کئی بڑے شہروں سے گزرے گا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ سوگ جلوس تہران کے ساتھ ساتھ ملک کے بڑے مذہبی مراکز ’قم‘ اور ’مشہد‘ میں نکالا جائے گا۔ ان تینوں ہی شہروں میں عام لوگوں کیلئے بڑے پیمانے پر عوامی ریلیاں اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
Iranian authorities are planning a three-day public funeral for Ayatollah Ali Khamenei who was killed earlier this year by US-Israeli attacks, IRIB media outlet reported Tehran’s Deputy Mayor Mohammad Amin Tavakolizadeh as saying.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 2, 2026
LIVE updates: https://t.co/hEg06XO2fW pic.twitter.com/HUEsupKNLW
نیوز رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کی آخری رسومات کا سب سے بڑا پروگرام دارالحکومت تہران میں منعقد ہوگا۔ جہاں اہم تقریب مسلسل کم از کم 24 گھنٹے تک چلے گی، اس تاریخی اور انتہائی جذباتی موقع پر تہران میں سیکورٹی اور انتظامات کو برقرار رکھنا انتظامیہ کیلئے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔تہران کے میونسپل افسران کا اندازہ ہے کہ اپنے سپریم لیڈر کو الوداع کرنے کے لیے تہران میں تقریباً 2 کروڑ لوگ جمع ہو سکتے ہیں۔ اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنے اور ان کے ٹھہرنے کیلئے بڑے پیمانے پر لاجسٹکس اور سیکورٹی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔