عابد چودھری: ٹریفک پولیس نے غیر نمونہ، فینسی، جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف خصوصی مہم کے دوران گزشتہ دو روز میں 2279 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس دوران سینکڑوں گاڑیوں کو چالان کیے گئے جبکہ جعلی نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق غیر نمونہ اور "اپلائیڈ فار" نمبر پلیٹس استعمال کرنے والی 1137 گاڑیوں کو چالان ٹکٹس جاری کیے گئے۔ اسی طرح فینسی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹس لگانے پر 455 موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
حکام کے مطابق اگلی یا پچھلی نمبر پلیٹس پر ٹوٹے ہوئے نمبرز، نمبر پلیٹس کو مسخ کرنے یا گاڑی کا ماڈل اور دیگر معلومات چھپانے پر 687 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ جعلی نمبر پلیٹس کے استعمال پر شہر کے مختلف تھانوں میں پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر سات ہزار سے زائد موٹرسائیکل اور گاڑی مالکان کو قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی تاکہ انہیں آئندہ خلاف ورزیوں سے بچایا جا سکے۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ کار چلانے پر 3 ہزار روپے جبکہ موٹرسائیکل چلانے پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بوگس اور غیر قانونی گرین نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
سی ٹی او کا کہنا تھا کہ بعض شہری ای چالان سے بچنے کے لیے نمبر پلیٹس میں ردوبدل کرتے ہیں، جبکہ قانون شکن عناصر گاڑیوں کی شناخت چھپانے کے لیے جعلی نمبر پلیٹس استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ گاڑی ٹرانسفر کروانے کے بعد پرانے نمبر کی بجائے نیا یونیورسل نمبر استعمال کریں اور قانونی نمونہ نمبر پلیٹس ہی لگائیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق شہر بھر میں غیر قانونی نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔