ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کھاد کی قیمتںیں بڑھا کر کھربوں لوٹنے والوں کو پانچ پانچ کروڑ روپے جرمانہ

 کھاد کی قیمتںیں بڑھا کر کھربوں لوٹنے والوں کو پانچ پانچ کروڑ روپے جرمانہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   کھاد کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ پر سی سی پی کا بڑا ایکشن,فرٹیلائزر کمپنیوں کارٹل کوسی سی پی نے 37 کروڑ 50 لاکھ جرمانہ عائد کر دیا۔ اس دوران یہ کمپنیاں کاشتکاروں سے کھربوں روپے اینٹھ چکی ہیں۔

6بڑی کمپنیاں اور فرٹیلائزر مینوفیکچرنگ ایڈوائزری کونسل کے نام سے بنایا ہوا  نام نہاد فورم ملی بھگت کر کے کھاد کی قیمتوں کی مینی پولیشن کرتے رہے۔

فرٹیلائزر کمپنیوں اور گٹھ جوڑ کے لئے بنائی گئی  ایسوسی ایشن پر 37 کروڑ روپے جرمانہ کئے گئے۔

کمپی ٹیشن کمیشن نے 6بڑی فرٹیلائزر کمپنیوں اور ایف ایم پی اے سی پر بھاری جرمانے کئے ہیں۔ ہر کمپنی پر 5 کروڑ، تنظیم پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ  ہوا ہے۔

   کمپٹیشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کھاد کمپنیوں کی پروڈکشن کی کاسٹ ہر کمپنی کی مختلف ہے تو   پھر قیمت یکساں کیسے  ہے۔  فرٹیلائزر کمپنیوں نے آگاہی مہم کی آڑ میں قیمتیں طے کیں۔ پالیسی کےتحت فرٹیلائزر سیکٹر کی ڈی ریگولیٹیڈ ہیں ،قیمتوں کا اعلان ایڈوائزری نہیں، کاروباری فیصلہ تھا۔

قیمتوں کا تعین مارکیٹ میں کھاد کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کا سبب بنا۔کھاد کی یکساں قیمتوں کا تعین کسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

لمپیٹیشن کمیشن کے چئیرمین  ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا  کہ کاروباری و تجارتی تنظیمیں قیمتوں کا تعین نہیں کر سکتیں ۔

آزادانہ مقابلہ ، مارکیٹ قیمت تعین کرے

کاروبار کا عمومی طریقہ کار یہ ہے کہ مینیوفیکچرر اور ٹریدر اپنی پروڈکٹس، ان کی پروڈکژن، امپورٹ، ترسیل وغیرہ کی لاگت،  مارکیٹ میں ضرورت اور اپنی پروڈکں کی ڈیمانڈ کو سامنے رکھ کر طے کرتے ہیں۔ اگر کسی کو ایک پروڈکٹ ہزار روپے مین بیچ کر مناسب منافع ملتا ہے تو وہ اس قیمت پر فروخت کے لئے پیش کر دیتا ہے، کسی کو اپنی پروڈکٹ ہزار روپے مین بیچنے مین دشواری ہو تو وہ اس کی قیمت نو سو اسی روپے رکھ کر گاہک کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، آزادانہ مقابلہ کی فضا مین کنزیومر کو فائدہ ہوتا ہے لیکن جہاں کسی پروڈکٹ کے پیدا، فروخت کرنے والے آپس مین ملی بھگت کر کے  قیمت طے کریں تو اس عمل کو قیمت کی مینیپولیشن کہتے ہیں۔ قیمت پر اس مصنوعی کنٹرول سے اس کے بنانے، فروخت کرنے والوں کو اضافی منافع ملتا ہے لیکن کنزیومر کو بھاری نقصان ہوتا ہے

 پاکستان میں سال ہا سال سے مختلف انڈسٹریز   میں بڑے پروڈیوسرز، مینوفیکچررز  نے گٹھ جوڑ کر رکھے ہیں اور  اپنی اپنی پروڈکٹ فروخت کرنے کے لئے آپس میں مقابلہ کرنے کی بجائے  قیمتں ملی بھگت سے  طے کرتے ہیں۔ اس مکروہ عمل کی وجہ سے ہر بنیادی  ضرورت کی پروڈکٹ مصنوعی طور پر مہنگی فروخت ہو رہی ہے، مرغی، انڈے کی ہوش ربا قیمت اس کی ایک کھلی مثال ہے۔

کمپیٹیشن کمیشن نے پانچ سال پہلے مرغی کی قیمت مصنوعی بڑھانے کے لئے چوزے کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ کی شکایات کی کئی سال سماعت کر کے چند ہفتے پہلے چوزے بیچنے والی کمپنیوں کو بھاری جرمانہ کیا لیکن نہ کمپنیوں کا کچھ بگڑا نہ چوزے اور مرغی کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا  ذمہ دار گٹھ جوڑ ٹوٹا۔ 

 کمپیٹیشن کمیشن کا کردار

صرف جرمانہ کرنے کا اختیار رکھنے والا ادارہ کمپی ٹیشن کمیشن مارکیٹ میں مناپلی کو توڑنے، گٹھ جوڑ ختم کروانے اور ملی بھگت کر کے قیمتوں اور مارکیٹ میں پروڈکٹس کی فراہمی کے عمل کو کنٹرول کرنے جیسی پرویکٹسز کو روکنے کا واحد ذمہ دار ہے۔ اس ادارہ کے پاس محدود اختیارات کے سبب یہاں کھلی بدمعاشی کے کیس بھی کئی کئی سال تک لٹکے رہتے ہیں۔ ادارہ  جتنا جرمانہ کر سکتا ہے اور کرتا ہے، اس سے کئی سو گنا زیادہ غیر قانونی منافع گٹھ جوڑ کرنے والے پہلے سمیٹ چکے ہوتے ہیں۔