آفاق نذیر: سانحہ کاہنہ کو تین روز گزر گئے، تعزیت کے لیے آنے والوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کاہنہ میں متاثرہ ٹیوشن سینٹر کا دورہ کیا ۔
سانحہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے تعزیت کی ۔ حافظ نعیم الرحمان نے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کے بلندی درجات کے لیے دعا بھی کی۔
امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین ایڈووکیٹ اور دیگر عہدیداران بھی ان کے ہمراہ تھے ۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا پھول جیسے بچے دنیا سے رخصت ہوگئے، دل بہت اداس ہے،روڈ خراب ہونے سے حادثہ کے وقت کئی بچوں نے راستے میں ہی دم توڑا
علاقہ میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔وزیراعلی کے دورے سے پہلے روڈ کی حالت کو بہتر کیا گیا ۔جو ڈویلپمنٹ ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہورہی۔یہ علاقے لاہور کی اصل آبادیاں ہیں۔ایسی کئی بستیاں لاہور اور پنجاب میں موجود ہیں۔اپنے مقاصد کے لیے میڈیا کو خرید لیا جاتا ہے۔مقامی لیڈر شپ یہاں موجود ہے، متاثرین کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔
وزیر اعلی متاثرہ جگہ پر نہیں آئیں، باہر مین روڈ سے ہوکر چلی گئیں۔ہمارے بچوں کا حق ہے انہیں معیاری تعلیم ملے۔چند لاکھ کے چیکس تقسیم کرکے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا
ان کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔والدین کے ساتھ تعزیت کرتا ہوں، اللہ کی ذات ان کو صبر دے۔
بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔غربت میں پنجاب میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا سکول بند کردینا مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔پنجاب میں 1 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔عوام کو بیدار ہونا پڑے گا، ورنہ یہی کچھ چلتا رہے گا ۔سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔