ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود خاتون ڈاکٹر کو ریگولر نہ کرنے پر سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ عظمت محمود کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے ڈاکٹر نورین فاطمہ کی درخواست پر سماعت کی , پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سعد غازی پیش ہوئے اور پنجاب حکومت کے لاء افسر نے سیکرٹری سپلشلاذڈ ہیلتھ کی جانب سے جواب جمع کروایا ، اور عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو ریگولر کرنے کے لیے اس کا معاملہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھجوایا ہے، جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سیکرٹری سپلشلاذڈ ہیلتھ کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا عدالت نےخاتون ڈاکٹر کو مستقل کرنے کا حکم دیا تھا ،معاملہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھیجنے کی بجائے سیکرٹری نے ڈاکٹر کو مستقل کیوں نہیں کیا ، درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ وہ محکمہ ہیلتھ میں بطور ڈاکٹر کنٹریکٹ بھرتی ہوئی ،عدالت نے درخواست گزار کو ریگولر کرنے کا حکم دیا، اس پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ، درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ حکم عدولی پر سیکرٹری سپیشلائز ہیلتھ کے خلاف توہین عدد کی کاروائی کی جائے۔