ویب ڈیسک:معروف اداکار فیروز خان ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر تنازع کا شکار ہو گئے ہیں، گزشتہ شب ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ایک متنازع اسٹوری شیئر کی گئی، جس میں ان کی دوسری اہلیہ ڈاکٹر زینب کو ٹیگ کرتے ہوئے کچھ سنجیدہ نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے۔
وائرل ہونے والی اسٹوری میں لکھا گیا کہ مجھے اس رشتے میں زبردستی اور بلیک میلنگ کے ذریعے لایا گیا، میری والدہ اور بہن کے ساتھ ظلم ہوا اس کے بعد یہ رشتہ میرے لیے ختم ہو گیا ہے۔
مجھے کہا جا رہا ہے کہ اپنی والدہ اور بچوں کا ساتھ بھی نہ دوں ورنہ مجھ پر غلط الزامات لگائے جائیں گے۔
انہوں نے اپنی اہلیہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’گھر واپس مت آنا‘، شکریہ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ سب اس لیے شیئر کر رہا ہوں کیونکہ سب کو مدد کی ضرورت ہے اور مجھے بھی۔ اور مجھے یقین ہے کہ میرے چاہنے والے مجھ پر اعتماد کریں گے۔
فیروز خان نے مزید لکھا کہ میں نے بہت سے پراجیکٹس پر کام کیا ہے، کبھی کسی کو ناراض نہیں کیا اور ہمیشہ مہذب رہا ہوں، مجھے یہ خوف نہیں کہ لوگ مجھے نہیں پہچانیں گے۔
اسٹوری میں مزید لکھا گیا کہ میں نفسیاتی ڈاکٹروں سے علاج کروا رہا ہوں اور دوائیاں بھی لے رہا ہوں لیکن جو چیز مجھے اندر سے مار رہی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص مجھے اپنے ہی لوگوں کی نظر میں برا دکھا رہا ہے اور کسی بھی طرح نقصان پہنچانے پر تلا ہوا ہے۔

اس اسٹوری نے نہ صرف مداحوں کو حیران کر دیا بلکہ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں اور تبصروں کا ایک طوفان برپا ہو گیا، جہاں صارفین نے ان کی ازدواجی زندگی سے متعلق مختلف آراء اور خدشات کا اظہار کیا۔
چند گھنٹوں بعد فیروز خان نے دعویٰ کیا کہ ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا، اور مذکورہ پوسٹ ان کی مرضی یا علم کے بغیر شیئر کی گئی۔

تاہم اس وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ تاحال جاری ہے، اور مداح یہ جاننے کے لیے بےچین ہیں کہ آیا یہ واقعی ہیکنگ کا واقعہ تھا یا کسی ذاتی مسئلے کی جھلک۔