ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سائبر حملے مالیاتی نظام کیلئے نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکے ہیں، وزیر خزانہ

مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سائبر حملے مالیاتی نظام کیلئے نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکے ہیں، وزیر خزانہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت مالیاتی شعبے کی سائبر سیکیورٹی سے متعلق اہم ورچوئل اجلاس ہوا ۔ 
اجلاس میں کمرشل بینکوں کے سربراہان اور ماہرین  نے شرکت کی ۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کے مالیاتی نظام کو بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کے ساتھ سائبر سیکیورٹی کو مرکزی پالیسی ترجیح دینا ناگزیر ہے۔مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سائبر حملے مالیاتی نظام کیلئے نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکے ہیں۔مالیاتی انفراسٹرکچر کے تحفظ کیلئے ریگولیٹرز، بینکوں اور ماہرین کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے وزیر خزانہ نے کہا سائبر خطرات سے نمٹنے کیلئے مربوط، مرحلہ وار اور قابل عمل حکمت عملی اپنانا ہوگی،فوری خطرات کے تدارک، درمیانی مدت کی استعداد کار اور طویل مدتی ریزیلینس پر بیک وقت توجہ ضروری ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی اور ردعمل کو بہتر بنایا جائے۔مالیاتی شعبے میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ڈیجیٹل معیشت اور معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے ۔ پالیسی اقدامات کو مؤثر عملدرآمد میں تبدیل کرنے کیلئے واضح ذمہ داریاں اور مربوط نظام ضروری ہے ۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ جدید اے آئی ٹولز تیزی سے کمزوریاں تلاش کر کے کثیر مرحلہ وار سائبر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈیجیٹل بینکنگ چینلز، پیمنٹ سسٹمز اور مالیاتی انفراسٹرکچر کو ممکنہ سائبر خطرات لاحق ہیں ۔ ،جاپان اور بھارت میں سائبر حملوں کے حالیہ رجحانات پاکستان کیلئے اہم سبق ہیں،عالمی سطح پر مرکزی بینک اور وزارتیں سائبر سیکیورٹی کو نظامی خطرہ سمجھ کر ترجیح دے رہی ہیں
شرکا نے کہا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پلیٹ فارمز پر بھی سائبر رسک سے نمٹنے کیلئے مشاورت جاری ہے ۔پاکستان عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل مالیاتی استحکام کے مباحث میں فعال کردار ادا کر رہا ہے ۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ کو مؤثر بنانے اور اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا اور اتفاق کیا کہ پرانے اور کمزور سسٹمز کو اپ گریڈ کر کے سائبر خطرات کم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کو سائبر سیکیورٹی فریم ورک کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی وزیر خزانہ کی سائبر رسک مینجمنٹ میں موجود خلا کی نشاندہی کر کے عملی سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی ۔ 
 مالیاتی نظام کو جدید سائبر خطرات سے محفوظ بنانے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔