پاکستان نے پہلگام واقعےکی تحقیقات کے لیے کثیر ملکی تحقیقاتی کمیشن یا اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کی پیشکش کردی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نیوز چینل سے انترویو میں کہا کہ پہلگام واقعہ کی یا تو دو تین ملک مل کر تحقیقات کرلیں یا پھر اقوام متحدہ کا کمیشن بنادیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا، بھارت تحقیقات کے مطالبہ کو اس لیے قبول نہیں کررہا ہےکہ اسے خوف ہےکہ کچھ اور نہ نکل آئے، بات چیت کے امکان کو کسی بھی حالات میں خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، کشیدگی جتنی بھی ہو مذاکرات کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا، پاک بھارت تصادم کا امکان کم ہوا ہے مگر بھارت میں اس وقت بہت بوکھلاہٹ ہے، ساری دنیا کہہ رہی ہےکہ معاملہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف نے پہلی مرتبہ یہ تجویز پبلک مین بیان کی کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ ، روس، چین، ترکی، ایران یا کوئی بھی ملک اس تحقیقات کی ابتدا کرے۔
انہوں نے پہلگام واقعہ کے مشکوک سرکم سٹینسِز کا ایک بار پھر حوالہ دیتے ہوئے کہا، پہلگام میں ایک طرف واقعہ ہو رہا ہے اور دس منٹ میں ایف آئی آر درج ہوگئی۔ پہلگام واقعے کی ساکھ پر بھارت کے اندر سے ہی کریک پڑگئے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا، اس وقت حکومت پاکستان کی جانب سے مشیر قومی سلامتی کے تقرر کا مذاکرات کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔