اداروں کیساتھ جنگ ہوئی تو میں عمران خان کیساتھ کھڑا ہوں گا، شیخ رشید

شیخ رشید
کیپشن: Sheikh Rasheed
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیرداخلہ اور شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کی اداروں سے جنگ ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا، کیوں کہ میں عمران خان کو اس جنگ میں حق بجانب سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ 

 سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا غیرملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئےکہنا تھا کہ فوج کے ساتھ تمام معاملات اچھے چل رہے تھے اور ہم سب ایک پیج پر تھے، تاہم پھر ایک دم ہمیں نظر لگ گئی، ہماری درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں جو نہیں ہونی چاہئے تھیں، پاک فوج ایک عظیم فوج ہے جو جمہوریت کا فائدہ سوچتی ہے، اور ہرمنتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ ایسا ہوا ہے کہ ایم کیوایم اور باپ نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا، آدھی ق لیگ چلی گئی، ہم سے کہیں تو غلطی ہوئی ہے۔

 تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایم کیو ایم پر پورا یقین تھا، اس لئے کہتا تھا کہ عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی، لیکن جس دن ایم کیو ایم پی ڈی ایم کے ساتھ جابیٹھی اس دن میں نے کہہ دیا تھا کہ ہم ہار گئے، کیوں کہ میں اس جماعت کو اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کی بنیاد رکھی گئی، میں اور ایم کیو ایم کے بانی اپنی اپنی اسٹوڈینٹس جماعتوں کے رہنما تھے، انہوں نے کبھی غلطی نہیں کی اور بہت سوچ کر چلنے والی جماعت ہے، لیکن اس بار یہ لوگ غلطی کرگئے۔

 شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ مارچ اور اپریل اہم مہینے ہیں، میں فوج سے صلح کا حامی ہوں لڑائی جھگڑے کی حمایت نہیں کرتا اور اب بھی چاہتا ہوں کہ ہماری صلح ہونی چاہئے، اور اس پر کل سے کوشش شروع کردی ہے تاہم ابھی کوئی جواب نہیں آیا، ہمارا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کی تاریخ دے دی جائے، ہم فوج کے ساتھ ہیں اور جب تک یہ حکومت ہے اپنی حکومت کرے۔ ہم ایک ماہ سے اسی کوشش میں ہیں اور عوام کے جذبات بھی سب کے سامنے ہیں،  ورنہ اگلے ماہ تو بجٹ آجائے گا اور یہ معاملہ پھر لٹک جائے گا، اب 31 مئی تک الیکشن کی تاریخ دے دینی چاہئے، اگر عوام نے ساتھ دیا اور اسلام آباد آگئے تو پھر تو ہم الیکشن کی تاریخ لئے بغیر وہاں سے نہیں جائیں گے، ورنہ ہماری سیاست غرق ہوجائے گی، ہم آر یا پار ہوجائیں گے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کو اداروں کے خلاف نہیں کھڑا ہونا چاہئے، اور اگر ایسا ہوا تو انہیں ٹھیک کریں گے، ہمیں اداروں کے ساتھ مل کر الیکشن کی تاریخ طے کرنی چاہئے، میں اس میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا، لیکن اگر عمران خان کی اداروں سے جنگ ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا، تاہم پہلی کوشش ہوگی کہ صلح صفائی ہوجائے، پنڈی میرا حلقہ ہے اورپاکستان کے تمام ادارے میرے حلقے میں ہیں، پاک فوج میری فوج ہے، لیکن اس لڑائی میں میں عمران خان کو حق بجانب سمجھتا ہوں، اور کہتا ہوں کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، خواہ اس میں بین الاقوامی طاقتیں شامل ہیں یا مداخلت ہوئی ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس یہی فارمولا ہے کہ وہ  لاکھوں کی تعداد میں عوام کو اسلام آباد میں لے آئیں تو حل نکل سکتا ہے، ورنہ یہ نہ ہوں کہ جھاڑو پھیردیا جائے، اور نہ ہم رہیں اور نہ وہ رہیں، اور کھیل ختم پیسا ہضم والی بات نہ ہوجائے، میں نہیں چاہتا کہ جھاڑو پھرے اور جمہوریت ختم ہو، فوج بھی یہی چاہتی ہے، اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انتخابات ہوجائیں، اگر ایسا نہ ہوا تو سب کو پتہ ہے کہ لڑائی کا انجام کیا ہوتا ہے اور میں پھر بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ عمران خان کبھی نہیں چاہتے کہ مارشل لا لگے، وہ تو انتخابات چاہتے ہیں، وہ تو اس حکومت سے بھی مذاکرات اور بات چیت کے لئے تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ اگر حکومت انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے بات کرے اور کوئی ان کی ذمہ داری لے، ورنہ عمران خان ان کی شکلیں دیکھنے کو بھی تیار نہیں ہے۔

مسجد نبویﷺ میں حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والے واقعے پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں عاشق رسولﷺ ہوں اور اس فعل پر کہتا ہوں کہ نہیں ہونا چاہئے، اگر مجھے اس جرم میں جیل بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں، کیوں کہ میں تو ایک کلاشنکوف کے کیس میں 7 سال جیل کاٹ چکا ہوں اور واحد سیاست دان ہوں جو سب سے زیادہ قید میں رہا، میں نے ایک کتاب لکھی ہے جو 2 کروڑ روپے کی بکی ہے اور کل ہی اس کا چیک مجھے ملا ہے، میں ایک اور کتاب لکھوں گا اور 10 کروڑ روپے کماؤں گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ جہاں بھی جائیں گے عوام اپنے جذبات کا اظہار کریں گے اور انہیں چور کہیں گے، مدینہ میں تو شاید 5 سے 10 ہزار لوگ ہیں لیکن اگر یہ لوگ لندن چلے گئے تو ایک لاکھ افراد ان کے خلاف مظاہرہ کریں گے، اور لندن کی تاریخ میں انہیں ٹماٹر اور انڈے مارنے کا سب سے بڑا مظاہرہ ریکارڈ قائم کرے گا، انہیں وہاں بکتر بند گاڑی میں جانا پڑے گا۔