سینٹ انتخابات:12 نشستوں کیلئے کل پنجاب اسمبلی میں میدان سجے گا

سینٹ انتخابات:12 نشستوں کیلئے کل پنجاب اسمبلی میں میدان سجے گا


(قذافی بٹ) سینٹ انتخابات کیلئے پنجاب کی 12 نشستوں پر حکومت کے حمایت یافتہ اور اپوزیشن کے 20 امیدوار آمنے سامنے ہونگے، 368 کا ایوان کامیابی کے لیے 46.1 ووٹ درکار ہیں پنجاب اسمبلی میں کس پارٹی کی کیا پوزیشن ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں سینٹ کی بارہ نشستوں کے لیے تین مارچ کو پنجاب اسمبلی میں میدان سجے گا,  الیکشن کمیشن کے فارمولے کے مطابق جنرل نشست پر سینٹ امیدواروں کو کامیابی کے لیے طریقہ کار کے مطابق 46.1 ووٹ درکار ہیں جبکہ ٹیکنو کریٹ اور اقلیت کی نشست پر184.01 جبکہ خواتین نشست پر 122.6 ووٹ درکار ہونگے۔

  پنجاب اسمبلی میں اگر پارٹی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو حکومتی حمایت یافتہ امیدواروں کی برتری واضح نظر آتی ہے،  پنجاب اسمبلی کے ایوان میں مسلم لیگ ن کے پاس310 نشستیں ہیں۔

تحریک انصاف 30 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے،  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق دونوں آٹھ آٹھ ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ، پانچ آزاد امیدوار، پاکستان مسلم لیگ ضیاء 3 ، جے یو آئی فضل الرحمن ، جماعت اسلامی ، نیشنل عوامی پارٹی، نیشنل مسلم لیگ ایک ایک نشست رکھتی ہیں۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 15 نومبر 2018  

پانچ آزاد امیدواروں میں سے دو امیدوار انعام اللہ خان نیازی اور عبدالزاق خان حکومتی بنچوں پر بیٹھتے ہیں جبکہ اپوزیشن کو تین آزاد اراکین علی سلمان، احسن ریاض فتیانہ اور سردار نصراللہ خان دریشک کی حمایت حاصل ہے۔

ویسے تو پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 کا ہے لیکن پنجاب کی تین نشستیں خالی پڑی ہیں، سپریم کورٹ کی جانب سے گوجر خان کی نشست پر شوکت خان کی کامیابی کا رزلٹ عدالتی حکم پر معطل ہے۔ پی پی 259 پر سردار خان محمد خان جتوئی کو سپریم کورٹ نے ہی جعلی ڈگری کی بنیاد پر اسمبلی رکنیت سے نااہل کیا ہے جہاں تاحال الیکشن نہیں ہوسکے جبکہ حکومتی جماعت کے رکن طاہر سندھو کی وفات کے بعد انکی نشست خالی پڑی ہے۔ اسلیے تین مارچ کو سینٹ الیکشن میں 368 اراکین حصہ لیں گے۔

اپوزیشن کو کو سینٹ میں اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے 46.1 ووٹ درکار ہیں۔ اگر اپوزیشن متفقہ امیدوار سامنے لاتی ہے تو سینٹ کی نشست نکالی جاسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے پاس اس وقت 30 ووٹ ہیں  یعنی انہیں مزید 16 ووٹ اور درکار ہیں اگر پی ٹی آئی پیپلز پارٹی، ق لیگ ، جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو چودھری محمد سرور سینٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق نے بھی اپنے اپنے امیدوار سینٹ کی نشست پر کھڑے کیے ہیں۔ ابھی تک اپوزیشن متفقہ امیدوار پر اکٹھا ہوسکی ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک کے پاس سینٹ کی نشست کے لیے اکثریت ہوئی ہے۔

الیکشن کمیشن کا سینٹ انتخابات میں پولنگ سٹیشنز کے باہر رینجرز اور ایف سی کے دستے تعینات کا کرنے فیصلہ،، وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا گیا۔