ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لڑکیوں کو پیٹ کر اولمپک میڈل جیتنے والا مرد نکلا

Iman Khalif, City42, Trans gender, Trance phobia, X, Elone Musk, Donald Trump, JK Rolling, City42 ,Italian boxer Angela Carini
کیپشن: الجیریا کی "خاتون" باکسر ایمان خلیف  2024 کی پیرس اولمپکس میں حقیقی خواتین سے گولڈ میڈل چھین لینے کے بعد اسے چوم رہی ہیں۔مسٹر  ایمان خلیف کا ایک ہی مکہ کھانے ککے بعد اٹلی کی خاتون باکسر انجیلا کرینی نے مقابلہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ جن لڑکیوں نے مسٹر خلیف کے خلاف  آخر تک کھیلا وہ بھی ہاریں۔ اب پیرس اولمپکس کی اولمپک کمیٹی تنقید کی زد مین ہے کہ اس نے "واقعی عورت"  پلئیرز کو مرد کے آگے ڈال کر زیادتی کی.

سٹی42:  پیرس اولمپکس 2024 میں خواتین کی باکسنگ  میں تمام عورتوں کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیتنے والی خاتون مرد نکلی۔  لیک ہونے والی میڈیکل رپورٹ نے ہولناک سچ کا انکشاف کر دیا۔ پیرس اولمپکس  کے گولڈ میڈل پر اور اولمپکس کی متعلقہ کمیٹی کے فیصلوں پر سنگین سوالیہ نشان لگ گیا۔

پیرس اولمپکس  2024 میں ویمن باکسنگ ایونت میں گولڈ میڈل جیتنے والی ایمان خلیف کی  2023 کی جینڈر ٹیسٹ کی رپورٹ  لیک ہو گئی ہے۔ اس رپورٹ نے کنفرم کیا کہ ایمان خلیف پیدا تو خواتون ہوئی تھیں لیکن اب وہ بایولوجیکل مرد ہیں۔ ان کے کروموسوم کی بناوٹ سو فیصد مرد والی ہے۔

ایمان خلیف کی  2023 مین انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے ورلڈ چیمپئین شپ ٹائیٹل کے دوران کئے گئے جینڈر ٹیسٹ کی رپورٹ کے مندرجات کی تصدیق ہو چکی ہے۔  اس رپورٹ مین انڈیا کے پیتھالوجسٹ نے انہیں بایولوجیکل مرد ڈیکلئیر کیا تھا۔ اس رپورٹ کی بنا پر انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن نے ایمان خلیف کو خواتین کے باکسنگ ایونٹ میں حصہ لینے سے  روک دیا تھا کہ وہ "عورت" نہیں ہیں۔ ایمان خلیف کو اس باکسنگ ایونٹ سے نکالے جانے نے دنیا مین ایک تنازعہ کھڑا کر دیا تھا، اس فیسلے کو ڈسکریمینیشن قرار دیا گیا، اسے نئی جینڈر برابری کی تحریک کے کارکنوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور روایتی دو جینڈرز کے ماننے والوں نے بھی یہ  سوال اٹھایا کہ ایمان خلیف جو عورت پیدا ہوئی تھیں، بظاہر اب بھی عورت ہیں، انہیں صرف مردوں جیسے جسمانی پٹھوں کی وججہ سے عورتوں کا ساتھ کھیلنے سے کیوں منع کیا جائے۔ اس تنازعہ میں ان عورتوں کے حقوق کا بھی سوال اٹھا جو محض عورت ہیں، جن کے جسم کے پٹھے عورتوں جیسے ہیں، انہیں باکسنگ کے رِنگ میں مردوں جیسے نسبتاً زیادہ سٹرونگ پٹھوں والی کسی کھلاڑی کے آگے کیوں ڈالا جائے جو انہیں مردوں جیسی قوت کے ساتھ مارتی رہے اور ہر میڈل جیت جائے۔

اب  ایمان خلیف کی رپورٹ لیک ہونےنے سپورٹس کی دنیا میں بھونچال برپا کر دیا ہے۔ اب صرف پیرس اولمپکس کے ایک ایونٹ کا میڈل ہی متنازعہ نہیں ہو رہا بلکہ یہ مہیب تنازعہ بھی کھڑا ہونے والا ہے کہ ایمان خلیف جیسے انسان کس کیٹیگری میں شمار ہوں گے اور ان کے کھیلیں کھیلنے سے لے کر زندگی کے تمام شعبوں میں برابری کا سلوک یقینی بنانے کے لئے  معاشرہ کو کیا انتظامات کرنا ہوں گے۔

یمان خیلف کے 2023 ورلڈ چیمپیئن شپ کے جنسی ٹیسٹ کے نتائج پہلی بار شائع کیے گئے ہیں، میڈیکل رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ  الکیریا کی یہ باکسر حیاتیاتی طور پر مرد ہے۔

ورلڈ باکسنگ نے اپنے ساتھ  منسلک ایسوسی ایشنوں کے لئے ایونٹس کے رولز میں گزشتہ روز  اہم ترمیم کر دی ہے اور اب تمام ایونٹس مین شرکت کے لئے جینڈر ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔  اس ترمیم کے بعد ایمان خلیف اور ان جیسی تمام دوسری عورت پیدا ہونے  لیکن اب بایولوجیکلی عورت نہ ہونے والی "خواتین" کو جینڈر ٹیسٹ سے گزرنا پڑے گا ورنہ وہ خواتین کے ایونٹ میں کھیل نہیں سکیں گی۔

ورلڈ باکسنگ کے اس فیصلے کے صرف 36 گھنٹے  بعد ہی اس غیر معمولی کہانی کے مرکز میں موجود دستاویز  "ایمان خلیف کی جینڈر ٹیسٹ رپورٹ" کو  پبلک ڈومین میں جاری کیا گیا۔

Caption امریکی صحافی ایلن ابراہامسن نے پیرس اولمپکس کے عین بیچ میں انکشاف کیا  تھا کہ کس طرح بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) کو ایک سال سے زیادہ پہلے خبردار کیا گیا تھا کہ خلیف کےاندر "مرد" کا ڈی این اے ہے۔  مارچ 2023 میں نئی ​​دہلی میں باکسر پر کیے گئے ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آیا، جس سے باکسر کی نااہلی اسی سال ہوئی تھی۔ پیرس اولمپکس مین مسٹر خلیف نے بیچاری خاتون باکسرز کو بہت بری طرح پیٹا تھا۔

3 وائر اسپورٹس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی جینڈر ٹیسٹ رپورٹ کی دستاویز میں ایمان خلیف کے نتائج کو "غیر معمولی" کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے: "کروموسوم کے تجزیے سے مرد کی کیری ٹائپ کا پتہ چلتا ہے۔" ایک کیری ٹائپ سے مراد ایک انسان کے کروموسوم کا مکمل مجموعہ ہے، جسے خلیف کے معاملے میں انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (IBA) نے XY، مردانہ نمونہ کے طور پر رپورٹ کیا ہے۔

ٹیسٹ کے نتائج میں نئی ​​دہلی میں ڈاکٹر لال پاتھ لیبز کا لیٹر ہیڈ ہے، ان ڈاکٹر کو  امریکن کالج آف پیتھالوجسٹ کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے اور  یہ سوئٹزر لینڈ  میں قائم بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت سے تصدیق شدہ ہے۔ یہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی( آئی او سی) کے ترجمان مارک ایڈمز کے اکاؤنٹ کو براہ راست چیلنج کرتا ہے.  جس نے پیرس اولمپکس میں ایک کشیدہ نیوز کانفرنس میں انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے ایمان خلیف اور ایک دوسری باکسر کو ویمنز ایونٹ سے الگ کرنے کے فیصلے اور جینڈر ٹیسٹ کے  نتائج کو "ایڈہاک" اور "جائز نہیں" قرار دیا تھا اور ایمان خلیف کو  ویمن باکسنگ ایونٹ میں شریک رہنے کی اجازت دی تھی۔

Caption انجیلا کرینی کو جب مسٹر ایمان خلیف کے ساتھ مقابلہ سے دستبردار ہونا پڑا تو ان کی  حالت یہ تھی۔ انہیں غصہ اس بات پر تھا کہ  سخت مکہ مارنے والا ایک مرد ہے۔

پیرس اولمپکس میں ایمان خلیف کے ساتھ ایک مقابلہ میں اٹلی کی باکسر  انجیلا کرینی نے  46 سیکنڈ کھیلنے کے بعد مقابلہ چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ  ایمان خلیف کے مکے کو مرد کا مکا محسوس کر رہی تھیں۔ اس وقت کچھ نے کرینی کے اس فیصلہ کی حمایت کی اور اس کے ساتھ ایمان خلیف کی فائیٹ کو زیادتی قرار دیا، کچھ نے کرینی کی مذمت کی اور اولمکپس کمیٹی نے اس معاملہ کو لے کر غور کیا اور خلیف کو عورت تسلیم کرتے ہوئے ویمنز ایونٹ کھیلنے کی اجازت برقرار رکھی۔ 


آئی او سی کے صدر تھامس باخ نے اور بھی آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا کہ نتائج "روسی قیادت میں غلط معلومات کی مہم" کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اس سال(2025) کے شروع میں ایک انٹرویو میں یہ پوزیشن اختیار  کی تھی کہ IBA، جس کی سربراہی روس کے عمر کریم لیو کر رہے تھے، اخلاقیات اور مالیاتی انتظام کے حوالے سے مسلسل IOC کی پہچان چھین لی گئی تھی۔

 ہندوستانی لیبارٹری کی سرکاری توثیق جس نے خلیف پر ٹیسٹ کیے، آئی او سی پر یہ بتانے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے کہ اس کا  کیوں یہ خیال ہے کہ اس رپورٹ کے نتائج غیر قانونی ہیں۔

یہ  رپورٹ اب پبلک ہو چکی ہے اور اس نے خلیف کی ویمن باکسنگ ایرینا میں کسی بھی ممکنہ واپسی کو کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 ظاہری طور پر 26 سالہ لڑکا  اپنی جینڈر کو تسلیم کرنے سے منحرف رہا ہے، حتیٰ کہ اس نے 2028 میں لاس اینجلس میں لگاتار دوسرا اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کا عزم بھی کیا ہے۔ لیکن ورلڈ باکسنگ نے فیصلہ دیا ہے کہ خلیف ایک خاتون کے طور پر مستقبل کے ایونٹس میں شامل ہونے کے لیے پہلے ہی کروموسوم ٹیسٹنگ میں شامل ہونے کے لیے نااہل ہے جس نے پہلے ہی عالمی سطح پر نااہلی کو جنم دیا ہے۔

لاس اینجلس میں اولمپک باکسنگ چلانے کے لیے عارضی طور پر منظور شدہ گورننگ باڈی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے مقابلوں میں 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام کھلاڑیوں کو اپنی جنس کا تعین کرنے کے لیے پولیمریز چین ری ایکشن (PCR) جینیاتی ٹیسٹ سے گزرنا چ پڑے گا۔ یہ  ٹیسٹ منہ کے لعاب، یا خون کے ذریعے کروموسومل مواد کا پتہ لگاتا ہے۔ خلیف، جسے خواتین کے پاسپورٹ کی حیثیت کی وجہ سے پیرس اولمپکس کے ویمن باکسنگ ایونٹ میں باکس کرنے کی اجازت دی گئی تھی، اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد سے نو مہینوں میں خواتین کے کروموسوم کی حامل ہونے کا کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔


اس معاملے پر ورلڈ باکسنگ کا سخت موقف پیرس کے مناظر پر بڑے پیمانے پر غم و غصے کے جواب میں سامنے آیا ہے، جہاں ایمان خلیف اور تائیوان کے لن یو ٹنگ دونوں نے اولمپک ٹائٹل جیت لیے، اس کے باوجود کہ ان کے پاس XX کروموسوم نہیں تھے۔ ان دونوں پر  پچھلے سال IBA کی طرف سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اٹلی کی انجیلا کیرینی، جو خلیف کے ہاتھوں ماری گئی پہلی حریف تھی،  کرینی نے مقابلہ چھوڑنے کے بعد  بتایا تھا کہ کس طرح اسے اتنا زور سے گھونسہ مارا گیا کہ اسے اپنی جان کا خوف لاحق ہو گیا تھا۔

میکسیکو کی برائنڈا تمارا کروز، جنہوں نے 2022 میں خلیف کا مقابلہ کیا،  انہوں نے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ میں نے اپنے 13 سالوں میں ایک باکسر کے طور پر، اور نہ ہی مردوں کے ساتھ  کسی مقابلے میں ایسا محسوس کیا تھا۔" لاطینی امریکی فیڈریشنز بالآخر عالمی باکسنگ کو جنس کی حقیقت کو ترجیح دینے پر آمادہ کرنے میں انتہائی بااثر ثابت ہوئیں، تاکہ باکسنگ کھیلنے والی خواتین کے لیے انصاف اور تحفظ کو برقرار رکھا جا سکے۔

 ہنڈوران فیڈریشن نے خواتین کے حقوق کے نیٹ ورک کو بتایا کہ "ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ صرف پیدائشی خواتین ہی خواتین کے مقابلوں میں حصہ لے سکیں"۔ پیرو  کی فیڈریشن نے بھی "خواتین کے تحفظ" پر زور دیا۔