ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انٹر نیشنل باکسرز کیلئے جینڈر ا ٹیسٹ لازمی قرار پا گیا

 World Boxing, Iman Khalif, Anjela Carini , Biological male, Gender Test , Paris Olympics , City42
کیپشن: File Photo پیرس اولمپکس میں ایمان خلیف کے ساتھ میچ کو ادھورا چھوڑ دینے والی اٹالین باکسر انجیلا کرینی کا فیصلہ اب درست ثابت ہو گیا لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ انہیں اور ایمان خلیف کو رنگ میں فیس کرنے والی دوسری خاتون باکسرز کو کوئی کمپنسیشن ملنا ممکن ہو گا یا نہیں۔ اولمپکس مین کوئی ایتھلیٹ عموماً بس ایک ہی بار پہنچ سکتا ہے۔

سٹی42: ورلڈباکسنگ نے اپنی جینڈر ڈسکریمینیشن اپروچ پر تنقید کے باوجود جینڈر ٹیسٹ کو اپنے ٹائیٹل کیلئے لڑنے والے تمام باکسرز کے لئے لازمی قرار دے دیا۔  اس ٹیسٹ کا مقصد عورتوں کے باکسنگ مقابلوں میں بعض خواتین کو کھیلنے سے روکنا ہے۔

یہ کنٹروورسی "ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن" کی طرف سے  خاتون باکسر ایمان خلیف کو  2023 میں  ٹائیٹل کیلئے کا حق ایک جینڈر ٹیسٹ کی بنا پر  چھینے جانے کے بعد سے عروج پر ہے۔ ایمان خلیف بعد میں پیرس اولمپکس میں اولمپک گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔

باکسر خاتون ایمان خلیف کا  پیدائش کے وقت  فی میل (لڑکی) کی حیثیت سے اندراج کیا گیا تھا، ان کی پرورش لڑکی کی حیثیت سے ہوئی لیکن بعد میں ان کے جسم  کے پٹھوں میں مردوں جیسی شباہت دیکھی جانے لگی۔ ایمان خلیف ایمیچور باکسر ہیں، جب وہ کھیلتے کھیلتے  2023 کی ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کی دہلی میں منعقدہ مقابلوں تک پہنچیں تو ان کی جینڈر کو چیلنج کیا گیا اور انہیں عورت کی بجائے مرد قرار دیا گیا۔  ان کا ایک ٹیسٹ کیا گیا اور انہیں عورتوں کے باکسنگ ٹائیٹل کے لئے لڑنے سے روک دیا گیا۔ اس فیصلہ کو اس وقت متنازعہ تصور کیا گیا، بہت لوگوں نے اس پر تنقید کی۔

Caption  ایمان خلیف جیسی ہے، اس مین اس کا اپنا کوئی عمل دخل نہیں؛ ورلڈ باکسنگ کے جینڈر ٹیسٹ کے فیصلہ کے بعد اب ایک لازمی سوال یہ ہے کہ ایمان خلیف جیسے پلئیر اب کہاں کھیلیں گے، وہ مرد نہیں ہے تو مردوں کی کیٹیگری میں کیوں لڑے، کیا اب ایسے پلئیرز کے لئے نئی کیٹیگری بنائی جائے گی، یہ سوال خواہ تھوڑے لوگوں سے متعلق ہے لیکن بہرحال سوال ہے۔

  پیروس اولمپکس  2024  میں ایمان خلیف بھی شریک ہوئیں، وہاں بھی تنازعہ کھڑا ہوا جب اٹلی کی خاتون باکسر  انجیلا کیرینی نے ایمان خلیف کے ساتھ میچ آنے پر    46 سیکنڈ تک لڑنے کے بعد مقابلہ سے دستبردار ہونے  کا اعلان کر دیا۔  اس دستبرداری نے ایمان خلیف کے خلاف پہلے سے چل رہی مہم کو زندہ کر دیا۔ بعد میں پیرس اولمپکس کی باکسنگ کمیٹی نے ایمان خلیف کے خواتین کے ٹائیٹل کے لئے کھیلنے کے حق کا دفاع کیا اور  انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے  2023 مین خلیف کو مقابلہ میں حصہ لینے کا اہل نہ ماننے کے فیصلہ پر تنقید کی گئی۔

انجیلا کرینی نے  اپنے خلیف کے مقابلہ سے اس لئے دستبردار ہونے، کہ وہ اسے مرد تصور کر رہی تھیں، کے بعد ایمان خلیف سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا  "مجھے اپنے مخالف کے لیے بھی افسوس ہے۔ اگر آئی او سی نے کہا کہ وہ لڑ سکتی ہے تو میں اس فیصلے کا احترام کروں گی۔"

25 سالہ کرینی نے کہا کہ لڑائی کو ترک کرنا ایک سمجھدار قدم تھا، لیکن کرینی نے دستبرداری کے بعد ایمان خلیف سے ہاتھ نہ ملانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اب صورتحال اچانک بدل گئی ہے۔  انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے  2023 میں ایمان خلیف کا لیا گیا جینڈر ٹیسٹ لیک ہو گیا ہے۔ اس ٹیسٹ کی رپورٹ ایمان خلیف کو بایولوجیکل مرد بتا رہی ہے۔ بایولوجیکل مرد وہ ہوتے ہیں جن کے کروموسوم کی بناوٹ مرد والی ہوتی ہے۔"کروموزوم کے تجزیے سے مرد کی کیری ٹائپ کا پتہ چلتا ہے۔" ایک کیری ٹائپ سے مراد ایک فرد کے کروموسوم کا مکمل مجموعہ ہے، جسے خلیف کے معاملے میں انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (IBA) نے XY، مردانہ نمونہ کے طور پر رپورٹ کیا ہے۔

اب  تمام باکسرزکیلئے  جینڈر  ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔ ورلڈباکسنگ کے  تحت ہونے والے مقابلوں میں شرکت کرنے والے باکسرز کیلئے جینڈرٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔


ایمان خلیف کو اب جینڈر ٹیسٹ کروانا پڑے گا

پیرس اولمپکس میں گولڈمیڈل حاصل کرنے والی ایمان خلیف  اب ایک بار پھر کنٹروورسی کے مرکز میں ہیں۔ انہیں 36 گھنٹے میں جینڈر ٹیسٹ کرواننا ہے۔ جینڈر ٹیسٹ کروانے تک ایمان خلیف کسی مقابلے میں شرکت نہیں کرسکیں گی۔

 ورلڈباکسنگ کے مطابق  ایمان خلیف کے حوالے سے الجیریاکے باکسنگ فیڈریشن کو لکھ دیا گیا ہے، ٹیسٹ ہونے تک ایمان خلیف جون میں اینڈہوون باکس کپ میں شرکت نہیں کرسکیں گی۔

ایونٹس کے رولز میں  ٹیسٹ سے متعلق  ترمیم ورلڈباکسنگ کانگریس کی جانب سے کی  گئی ہے  جب کہ نئے رولز  کومبیٹ سپورٹس میں ایتھلیٹس کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔

 نئے رولز کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے تمام  ایتھلیٹس  اب جینڈرٹیسٹ کروانے کے پابند ہوں گے۔

پیرس اولمپکس کے  گولڈ میڈل کا اب کیا بنے گا، یہ الگ سے سوال ہے۔ اٹلی کی  انجیلا کرینی کو اور خلیف سے ہارنے والی دوسری باکسرز کو کیا کمپنسیشن ملے گی، یہ الگ سے ایک سوال ہے۔