سکولوں کو ماڈل بنانے کا منصوبہ ٹھپ ہوکر رہ گیا

سکولوں کو ماڈل بنانے کا منصوبہ ٹھپ ہوکر رہ گیا

( جنید ریاض ) ضلع لاہور کے دس ہائی سکولوں کو ماڈل بنانے کا منصوبہ ٹھپ، نیاء تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود ماڈل سکول بنانے کا منصوبہ مکمل نہ کیا جاسکا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع لاہور کے دس ہائی سکولوں کو ماڈل بنانے کا منصوبہ ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، نیاء تعلیمی سال شروع ہونے کے باوجود ماڈل سکول بنانے کا منصوبہ مکمل نہ کیا جا سکا۔ صوبہ بھر کے 11 اضلاع میں 100 ماڈل سکول بنائےجانے تھے۔ ماڈل سکولوں کاافتتاح یکم اپریل کو کیا جانا تھا۔

ماڈل سکولوں میں ایڈیشنل کلاس رومز اور طلباء کو کھیلوں کا سامان بھی مہیا کیا جانا تھا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق منصوبہ کورونا وائرس کی وجہ سے مکمل نہیں کیا جاسکا، یہ منصوبہ رواں سال ہی مکمل کرلیا جائے گا۔

دوسری جانب منصورہ میں نیشنل ایسوسی ایشن فارایجوکیشن کے زیر اہتمام کورونا وائرس کی صورتحال میں ”نجی تعلیمی اداروں کی بندش اور درپیش مسائل“ کے حوالے سے ڈائریکٹر نافع پاکستان ہدایت خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کے مرکزی و صوبائی صدور نے شرکت کی۔

 صدر آل پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ چار ماہ سے ادارے بند ہیں مگر حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف پیکج نہیں ملا۔ حکومت نے مختلف سیکٹرز کے لیے 12 سو ارب کا ریلیف دیا مگر سکولوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تمام شعبہ جات کو کھول دیا گیا مگر سکول کھولنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ حکومت کو وارننگ دے رہے ہیں کی دس دنوں میں ایس او پیز کے ساتھ سکول کھولنے کی اجازت دے نہیں تو احتجاج کرینگے۔