ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ناروے کی شہزادی او ر بیٹے کا نام ’ایپسٹین فائلز‘ میں آ گیا، حیران کن انکشافات

ناروے کی شہزادی او ر بیٹے کا نام ’ایپسٹین فائلز‘ میں آ گیا، حیران کن انکشافات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) شمالی یورپ کے ملک ناروے کے شاہی خاندان میں اس وقت تھرتھلی مچ گئی جب کراون پرنس کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئبی کا نام امریکہ کی بدنام زمانہ ’ ایپسٹین فائلز‘ میں منظر عام پر آ گیا ہے ۔ ماریئس بورگ  ہوئبی پر عصمت دری اور تشدد سمیت 38 سنگین الزامات عائد ہیں۔ ایپسٹین فائلز سے شاہی خاندان کے افراد کے نام اور پرانے ای میل روابط سامنے پر آئے ہیں۔ ماریئس بورگ ہوئبی  کے سیاہ کارناموں نے شاہی خاندان کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق  ناروے کی شہزادی میٹ میرٹ کے بیٹے ماریئس بورگ ہوئبی پہلے ہی عصمت دری کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی ’ ایپسٹین فائلز‘ نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ان دستاویزات میں شہزادی کا نام ایک ہزار سے زائد بار آیا ہے، جو مرچکے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کیساتھ ان کے نہایت قریبی اور ذاتی تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔لیک ہوئی ای میلز کے مطابق شہزادی نے ایپسٹین کو ’’انتہائی پرکشش‘‘ بتایا اور یہاں تک کہ اپنے 15 سالہ بیٹے کیلئےبرہنہ خواتین والے وال پیپر کے بارے میں مشورہ بھی مانگا۔ شہزادی نے ان روابط کو اپنی غلط فہمی قرار دیتے ہوئے عوامی طور پر معافی مانگی ہے۔ تاہم بیٹے کے ریپ کیس اور ماں کے ایپسٹین سے تعلقات نے ناروے کے شاہی خاندان کی شبیہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
  رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ لیک دستاویزات سے یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ شہزادی کو ایپسٹین کے سیاہ ماضی کی معلومات 2011 میں ہی ہو چکی تھیں۔ انہوں نے خود ایپسٹین کو ایک ای میل میں لکھا تھا کہ انہوں نے اسے ’’گوگل‘‘ کیا ہے اور نتائج ’’زیادہ اچھے نہیں‘‘ آئے۔ اس کے باوجود انہوں نے 2014 تک دوستی جاری رکھی اور 2013 میں فلوریڈا میں اس کے گھر بھی قیام کیا۔ یہ حقائق ان کے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں کہ وہ ایپسٹین کی حقیقت جلد سمجھ نہیں پائی تھیں۔عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق بیٹے ماریئس نے بچپن سے منشیات کے استعمال اور ذہنی بیماریوں سے جدوجہد کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک خاتون کے فلیٹ میں پرتشدد حملہ کیا، فانوس توڑا اور چاقو سے حملہ کیا۔ حال ہی میں ان پر 3.5 کلو گرام چرس کی ترسیل کا نیا الزام بھی عائد ہوا ہے۔ ماریئس نے معمولی جرائم قبول کیے ہیں، مگر عصمت دری کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق  اس مقدمے میں گواہی دینے والی خواتین میں کئی بااثر سوشل میڈیا انفلوئنسرز شامل ہیں، تاہم زیادہ تر عام نوجوان خواتین ہیں۔ عدالت نے سابقہ گرل فرینڈ نورا ہوکلینڈ کی گمنامی کی درخواست مسترد کر دی ہے، جنہوں نے ماریئس پر گلا گھونٹنے اور تشدد کے عوامی الزامات لگائے تھے۔ صحافیوں کی بھاری موجودگی میں ان خواتین کو اپنی سب سے ذاتی اور تکلیف دہ یادیں عدالت کے سامنے بیان کرنا ہوں گی، جو ان کے لیے نہایت اذیت ناک تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ماریئس مجرم ثابت ہوئے تو انہیں 10 سال سے زائد قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ 

ان انکشافات کے بعد ماہرین کا کہنا ہےکہ یہ ناروے کی جدید بادشاہت کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے۔ اگرچہ تازہ سروے کے مطابق اب بھی 73 فیصد عوام بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں، مگر ماریئس کی بہن شہزادی انگرید الیگزینڈرا کے مستقبل پر اس کے اثرات کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ ناروے کی پارلیمنٹ میں بادشاہت کے خاتمے پر ووٹنگ بھی اسی مقدمے کے دوران ہونی ہے، جس نے اس عدالتی کارروائی کو سیاسی طور پر بھی نہایت حساس بنا دیا ہے۔ شہزادی میٹ میرٹ نے عوامی طور پر ان تنقیدوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے جن میں ان کی پرورش پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماں کی حیثیت سے انہوں نے ماریئس  بورگ ہوئبی کی مدد کے لیے ہر ممکن پیشہ ورانہ کوشش کی۔ اب سب کی نظریں مستقبل کی ملکہ شہزادی انگرید الیگزینڈرا پر ہیں، جنہیں اس داغدار وراثت کے باوجود عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔