منشا بم کیس، ایل ڈی اے اور ضلعی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب

منشا بم کیس، ایل ڈی اے اور ضلعی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب


(ملک اشرف) سپریم کورٹ نے منشا بم کیس میں ایل ڈی اے اور ضلعی حکومت سے قبضے کے بارےمیں تفصیلی رپورٹ  طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ شہری علاقوں میں پٹواری اور تحصیلدارصرف کمائی کے لئے تعینات کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے شہریوں کے پلاٹس پر غیرقانونی قبضے کرنے پر منشا بم کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ڈی سی صالحہ سعید، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ نے سینئر ممبر ریونیو کو مخاطب کیا اور کہاکہ بتائیں کہ کھاتہ اور کھتونی کیا ہوتا ہے۔ شہری علاقوں میں محکمہ مال کا کیا کردار ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے تسلیم کیا کہ اندرون شہر پٹواری اور تحصیلدار تعینات کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں۔

درخواست گزار محمود اشرف کا کہنا تھا کہ رجسٹری کے مطابق وہ اراضی کا مالک ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شہر کے اندر جائیداد کی خرید و فروخت ڈیڈ سیل کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ رجسٹری پر گورنر ہاؤس لکھنے سے گورنر ہاؤس لکھنے والے کا نہیں ہو جاتا۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے بتایا کہ منشا بم کی اراضی کے ریکارڈ کے مطابق 1992 میں منشاء بم نے 32 کنال اراضی خریدی جو بعد میں فروخت کر دی۔ منشا بم کے خلاف درخواست گزار کو قبضہ ایل ڈی اے نے دینا ہے۔

چیف جسٹس نےعدالت میں پیش ہونے والے سائلین کو ہدایت کی کہ وہ منشا بم سے متعلقہ اراضی کے حوالے سے پولیس کے بنائے گئے شکایات سنٹر سے رجوع کریں۔

مزید اہم خبر یں پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کریں 

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 12 بجے 9 دسمبر 2018

https://www.youtube.com/channel/UCdTup4kK7Ze08KYp7ReiuMw/videos