ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے تھانہ غالب مارکیٹ کے علاقے میں خاتون کے قتل کیس میں سزائے موت کے قیدی سرفراز احمد کو بری کر دیا۔ عدالت نے سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے میچ نہ ہونے اور ناقص تفتیش کی بنیاد پر ملزم کو فائدہ دیا جاتا ہے۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ تھانہ غالب مارکیٹ نے 3 اکتوبر 2020 کو روبینہ ناز کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا تھا۔وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے مقتولہ کی لاش برآمد کی لیکن ڈی این اے میچ نہیں کرایا گیا، بلکہ ملزم کی گرفتاری کے بعد سیمپل بھجوائے گئے۔ وکیل نے کہا کہ ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ نے سرفراز احمد کو سزائے موت سنائی جبکہ اسی مقدمے کا شریک ملزم جاوید مسیح بری ہو چکا ہے۔سرکاری وکیل اور مدعی نے اپیل کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ پولیس تفتیش، گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق مجرم قصوروار ہے۔ تاہم عدالت مدعی اور پراسیکیوشن کو مطمئن نہ ہونے پر مجرم کو بری کرنے پر مجبور ہوئی۔یوں مقدمہ کے پانچ سال بعد سزائے موت کا قیدی رہا ہو گیا۔