گنگارام ہسپتال میں آتشزدگی، نومولود بچی جھلس کر جاں بحق


(حسن خالد) گنگارام ہسپتال کے بچہ وارڈ میں آگ بھڑک اٹھی۔ آتشزدگی کے باعث دو دن کی بچی جھلس کر جاں بحق ہوگئی۔ جس پرلوا حقین نے شدید احتجاج کیا۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے نوٹس لیتے ہوئے 6رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 13 نومبر 2018  

تفصیلات کے مطابق گنگارام ہسپتال کی بچہ وارڈ میں آتشزدگی کا واقعہ پانچ بج کر 35 منٹ پر پیش آیا۔ حادثے کے وقت وارڈ میں 25 نومولود بچے زیرعلاج تھے۔ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ جس سے آکسیجن سلنڈر پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حادثے کے بعد ہسپتال میں افراتفری پھیل گئی۔ لواحقین اپنے بچوں کے حصول کے لیے پریشان دکھائی دیئے۔

افسوسناک واقعے میں فتح گڑھ کے رہائشی محمد فرحان کی نومولود بچی جھلس کر دم توڑ گئی۔ جبکہ دیگر بچوں کو ہسپتال عملے نے فوری طور محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔ جاں بحق بچے کے لواحقین مشتعل ہوگئے اور آتشزدگی کا ذمہ دار ہسپتال عملے کو قرار دے دیا۔ مشتعل لواحقین نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے بعد عملے نے سست روی کا مظاہرہ کیا۔ جس کی وجہ سے انکی بچی جاں بحق ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد موقع پر پہنچی تو متاثرہ لواحقین نے شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹریاسمین راشد نے کہاکہ افسوسناک واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں گی۔ معاملے کی تحقیق کے لیے چھ رکنی انکوائری ٹیم بنا دی گئی ہے۔ 48 گھنٹوں میں ذمہ داروں کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:شہباز شریف کو ٹھنڈ لگ گئی

ایک سوال پر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ بچی کے جاں بحق ہونے پر دلی دکھ ہوا ہے۔ صرف کاغذات کی حد تک کارروائی نہیں بلکہ حقیقی طور پر ذمہ دار اپنے انجام کو پہنچیں گے۔