اشرف خان: پاکستان کے لسٹڈ بینکوں کے منافع میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بینکاری شعبے نے مجموعی طور پر 174 ارب روپے کا منافع کمایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ منافع گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے، جو اس شعبے کی مضبوط کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بینکوں کی نان انٹرسٹ انکم میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں کیپیٹل گینز نے اہم کردار ادا کیا۔یو بی ایل، بافل اور فیصل بینک نے مجموعی طور پر 44.5 ارب روپے کیپیٹل گینز حاصل کیے,شرح سود میں کمی کے باوجود بینکوں کی نیٹ انٹرسٹ انکم مستحکم رہی۔
رپورٹ کے مطابق یو بی ایل، ایچ بی ایل، اے بی ایل اور بی اے ایچ ایل کی این آئی آئی میں 4 سے 6 فیصد سہ ماہی اضافہ ہوا ،بینکاری شعبے کا کاسٹ ٹو انکم ریشو 48 فیصد پر آگیا، گزشتہ سہ ماہی 50.4 فیصد تھا.
مزید برآں، نیشنل بینک، سمبا بینک، عسکری بینک اور جے ایس بینک کے ایڈمن انتظامی اخراجات میں 9 سے 16 فیصد کمی دیکھی گئی, بینکاری شعبے نے سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں 1.80 ارب روپے کی پروویژن ریورسل بھی ریکارڈ کی، جس میں نیشنل بینک کی جانب سے 3.40 ارب روپے کی نمایاں ریورسل شامل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مؤثر ٹیکس ریٹ 52.4 فیصد رہا، جو گزشتہ سال 53.3 فیصد تھا، منافع کے لحاظ سےیو بی ایل 48.4 ارب روپے منافع کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ میزان بینک 22.4 ارب، نیشنل بینک 16.3 ارب اور ایچ بی ایل 16.2 ارب روپے منافع کے ساتھ نمایاں رہا۔
دیگرفیصل بینک کی 11 فیصد اور بینک اسلامی کی 10 فیصد این آئی آئی میں اضافہ ہوا،بینک آف پنجاب نے سالانہ بنیاد پر منافع میں 47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، اسی طرح یو بی ایل کے منافع میں 18 فیصد، اے بی ایل 10 فیصد اور ایم سی بی 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈیویڈنڈ کے حوالے سےایم سی بی نے 9 روپے، یو بی ایل 8 روپے اور میزان بینک نے 7.5 روپے فی شیئر ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن نے بینکاری شعبے پر اپنی “مارکیٹ ویٹ” ریٹنگ برقرار رکھی ہے، جبکہ میزان بینک اور بینک الفلاح ٹاپ پک قرار دے قرار دیا گیا ہے۔