سٹی42: یورپ کے طاقت ور ممالک جرمنی، انگلینڈ، اٹلی اور کئی دوسرے ملکوں نے یوکرین پر روس کی مسلط کردہ جنگ کے ضمن میں امریکہ کے صدر ٹرمپ کی یوکرین کا بازو مروڑنے کی حالیہ کوششوں کے خلاف یوکرین کے صدر زیلنسکی کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یورپ کے تیس کے لگ بھگ رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس میں صدر زیلنسکی کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کئے جانے کے بعد فون کالز کر کے زیلنسکی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ، جرمنی،اٹلی اور کینیڈا سمیت یورپی ممالک نے امریکہ کے واأٹ ہاؤس میں 20 فروری کو آنے واپے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی یوں تو کئی ہفتوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کی متشدد، تحقیر آمیز اور توہین آمیز دھمکیوں کا سامنا کر رہے تھے، ٹرمپ انہیں روس کے مقبوضہ علاقوں کو فراموش کر کے ٹرمپ کی بتائی ہوئی شرائط پر روس کے ساتھ جنگ بندی کرنے اور یوکرین کے قیمتی معدنیات سے بھرے علاقے امریکہ کے حوالے کر دینے کے دباؤ کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس دھمکیوں کی مہم کے دوران زیلنسکی گزشتہ روز واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے گئے تو وہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر نے مہمان اتحادی صدر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران تلخ جملوں کی بوچھاڑ کی۔ مہمان صدر زیلنسکی کے ساتھ ٹرمپ اور ان کے نائب کی تکرار کی ویڈیو بن گئیں۔ اس موقع پر نیوز آؤٹ لیٹس کے نمائندے موجود تھے۔۔
آج دنیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں جنگ زدہ اتحادی ملک یوکرین کے صدر کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں اہانت آمیز سلوک پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
برطانیہ، جرمنی،اٹلی اور کینیڈا اور کئی دوسرے یورپی ممالک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سلوک کا نشانہ بننے والے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے اظہار یکجہتی کیا۔
پرائم منسٹر سٹارمر کا صدر زیلنسکی کو فون
برطانیہ کے وزیراعظم سٹارمر نے صدر ٹرمپ اور زیلنسکی کو فون کیا اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے زیلنسکی کو برطانیہ کی غیرمتزلزل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
جرمنی کے چانسلر کی یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی
جرمنی کے چانسلر اولف شولز نے یوکرین کو جرمنی اور یورپ پر انحصار کرنے کی پیش کش کی جبکہ کینیڈا نے کہا کہ یوکرین آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، یوکرین کی حمایت پر یقین رکھتے ہیں۔
اطالوی وزیراعظم نے امریکا، یورپی ریاستوں اور اتحادیوں کے درمیان سربراہی اجلاس کی ضرورت پر زور دیا۔
زیلنسکی نے اظہار یکجہتی کرنے پر سوشل میڈیا پر تقریباً 30 یورپی رہنماؤں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ دوسری جانب صدر زیلنسکی لندن پہنچ گئے جہاں وہ یوکرین تنازع پر برطانوی وزیراعظم سٹارمر کی سربراہی میں کل ہونے والے یورپی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
زیلنسکی کی آج وزیراعظم سٹارمر سے ون آن ون ملاقات بھی ہوگی۔