(ویب ڈیسک) ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹی فریڈرکسن( Mette Frederiksen) کے ایک متنازع بیان نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آن لائن سیفٹی اور بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر ان کے چھوٹے بچے ہوتے تو وہ انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے بجائے سگریٹ نوشی کرتے دیکھنا پسند کرتیں۔ اس بیان کے بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے خطرات کی شدت اجاگر کرنا تھا، تاہم اس بیان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور حمایت دونوں کا سامنا کرنا پڑا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی روپورٹ کے مطابق ڈنمارک کی وزیر اعظم نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے یورپ سمیت دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آج ان کے چھوٹے بچے ہوتے تو وہ انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بجائے سگریٹ نوشی کرتے دیکھنا زیادہ پسند کرتیں۔ فریڈرکسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’اگر آج میرے چھوٹے بچے ہوتے تو میں انہیں سوشل میڈیا پر اکیلے چھوڑنے کے بجائے تمباکو نوشی کرنے دیتا۔‘‘ تاہم انہوں نے فوراً یہ بھی کہا کہ بطور وزیر اعظم وہ اس طرح کی بات نہیں کہیں گی، لیکن ان کا مقصد اس نئے خطرے کی شدت کو اجاگر کرنا ہے جو ڈجیٹل دنیا کے ذریعے بچوں کو درپیش ہے۔
ڈنمار ک کی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ معاشرے نے روایتی خطرات پر توجہ تو برقرار رکھی ہے لیکن بچوں کی ڈجیٹل زندگیوں میں پیدا ہونے والے نئے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو نقصان دہ مواد، آن لائن ہراسانی، نفسیاتی دباؤ اور استحصالی سرگرمیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈنمارک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نئی پابندیوں پر کام جاری ہے۔ مجوزہ قوانین کے مطابق 15سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، جبکہ 13 اور 14سال کے نوجوان صرف والدین کی اجازت کے ساتھ ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ضوابط آئندہ سال کے آغاز سے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
فریڈرکسن نے گزشتہ برس پارلیمنٹ میں بھی اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاشرے نے بچوں کی ڈجیٹل زندگیوں کو ایسے پلیٹ فارمز کے حوالے کر دیا ہے جن کی ترجیح کبھی بچوں کی فلاح نہیں رہی۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ’’ڈجیٹل قید‘‘ سے نکل کر حقیقی سماجی تعلقات اور کمیونٹی کی طرف واپسی کی جائے۔ وزیر اعظم کے حالیہ ریمارکس وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض ناقدین نے سوشل میڈیا اور سگریٹ نوشی کے درمیان موازنہ کو نامناسب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی ایک ثابت شدہ جسمانی نقصان پہنچانے والی عادت ہے جبکہ سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ مثال مناسب نہیں تھی، تاہم بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات ایک حقیقی مسئلہ ہیں۔ بعض تبصرہ نگاروں نے کہا اصل مسئلہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز ہیں جو صارفین کی توجہ حاصل کرنے کیلئےنقصان دہ یا اشتعال انگیز مواد کو فروغ دیتے ہیں۔ تاہم بعض صارفین نے وزیر اعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فریڈرکسن صرف یہ واضح کرنا چاہتی تھیں کہ بچوں کے لیے غیر محدود اسکرین ٹائم اور غیر نگرانی شدہ سوشل میڈیا استعمال کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
Denmark’s PM Mette Frederiksen:
— Clash Report (@clashreport) May 31, 2026
If I had small kids today, I would rather have them smoking than allowing them to stay on their own on social media.
But I am acting prime minister, so I will not say that. pic.twitter.com/I3oSu0UDgk
فریڈرکسن نے شدید تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر وضاحتی بیان بھی جاری کیا اور کہا ان کا مقصد ہرگز بچوں کو تمباکو نوشی کی ترغیب دینا نہیں تھا بلکہ والدین اور معاشرے کو یہ احساس دلانا تھا کہ آن لائن دنیا میں بچے کس قدر غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ یقیناً بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو نوشی نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن انہیں ایسے پلیٹ فارمز پر بھی تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے جہاں انہیں نقصان دہ تصاویر، منشیات کی پیشکش، بلیک میلنگ یا جنسی استحصال جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بحث صرف ڈنمارک تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، آن لائن سیفٹی اور ذہنی صحت پر اس کے اثرات کے حوالے سے قانون سازی اور پالیسی سازی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔